رسائی کے لنکس

logo-print

استعفوں کا معاملہ، حل نکل سکتا ہے: فاروق ستار


مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ انھیں ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا رویہ مثبت لگا اور انھیں بھی امید ہے کہ "جب حکومت کے ساتھ بیٹھیں گے تو مذاکرات میں جو تحفظات ہیں ان سب پر بات چیت ہوگی۔"

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے قانون سازوں کے استعفوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر حکومت سے مذاکرات کی رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

منگل کو یہ بات کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر "نائن زیرو" پر جماعت کے ایک سینیئر رہنما فاروق ستار نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

ایم کیو ایم سندھ خصوصاً شہری علاقوں کی ایک بااثر جماعت ہے جس کی صوبائی اسمبلی کے علاوہ پارلیمان میں بھی خاطر خواہ نمائندگی ہے۔

گزشتہ ہفتے اس کے قانون سازوں نے کراچی میں رینجرز کے آپریشن پر اپنے تحفظات دور نہ کیے جانے کے خلاف احتجاجاً پارلیمان اور سندھ اسمبلی میں اپنے استعفے جمع کروا دیے تھے جو تاحال منظور نہیں ہوئے۔

مرکزی حکومت اور حزب مخالف نے ایم کیو ایم کے قانون سازوں کو اپنے استعفے واپس لینے پر رضا مند کرنے کے لیے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ذمہ داری سونپی تھی جنہوں نے اپنے ساتھیوں کےہمراہ منگل کو پہلی مرتبہ "نائن زیرو" پر ایم کیوایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔

فاروق ستار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے ان سے کہا کہ وہ پارلیمان میں رہ کر اپنا کردار ادا کریں۔

"ہمیں امید ہے کہ ہم اس سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔ اسلام آباد میں حکومت کے ثالث ہوں گے ہم بھی ہوں اور جو وجوہات ہیں ان پر بات ہوگی تو مجھے نہیں لگتا کہ ہم اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے۔ ہم اس بحران کو حل کرسکتے ہیں۔"

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ انھیں ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا رویہ مثبت لگا اور انھیں بھی امید ہے کہ "جب حکومت کے ساتھ بیٹھیں گے تو مذاکرات میں جو تحفظات ہیں ان سب پر بات چیت ہوگی۔"

اس سلسلے میں آئندہ ملاقات اسلام آباد میں ہوگی۔

ملکی سیاست کی اس اہم ملاقات سے قبل ہی منگل کی دوپہر کراچی میں ایم کیو ایم کے ایک سینیئر رہنما رشید گوڈیل نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگئے تھے جو تاحال تشویشناک حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے اس واقعے کو مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا جب کہ فاروق ستار کا بھی کہنا تھا کہ رشید گوڈیل پر حملے میں اس پہلو کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ستمبر 2013ء سے کراچی میں رینجرز اور پولیس ٹارگٹڈ آپریشن کرتی آرہی ہے اور متحدہ قومی موومنٹ کا دعویٰ ہے کہ آپریشن کی آڑ میں ان کی جماعت کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم حکومت اور سکیورٹی حکام اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آپریشن شہر میں جرائم پیشہ اور شر پسند عناصر کے خلاف بلاتفریق طور پر کیا جا رہا ہے۔

حکومتی عہدیدار بھی یہ کہہ چکے ہیں متحدہ قومی موومنٹ کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG