رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی استعفیٰ دے دوں گا: وزیر داخلہ


چوہدری نثار

ادھر، ذرائع ابلاغ نے چوہدری نثار کے ترجمان کے حوالے سے جاری وضاحتی بیان میں بتایا ہے کہ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’’کل شام تک میرا یہ ذہن تھا کہ میں کوئی انتہائی فیصلہ کروں۔ وزارت اور ایم این اے شپ چھوڑنے کا فیصلہ گزشتہ شام تک کا تھا۔‘‘

پاکستان کی موجودہ حکومت کی کابینہ میں شامل ایک اہم وزیر چوہدری نثار نے کہا ہے کہ وہ پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد نا صرف وزارت بلکہ اسمبلی رکنیت سے بھی مستعفی ہو جائیں گے۔

بعض معاملات پر اپنی جماعت کی قیادت سے اختلافات کی بنا پر اپنے فیصلے سے متعلق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے گزشتہ اختتام ہفتہ نیوز کانفرنس کرنی تھی، لیکن یہ دو مرتبہ موخر کر دی گئی۔

تاہم، جمعرات کو اُنھوں نے نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’’جس دن (عدالت کا فیصلہ) آیا، (وزیر اعظم کے) حق میں فیصلہ آیا، یا خدانخواستہ خلاف آیا ۔۔۔ میں وزارت سے بھی استعفی دوں گا اور اسمبلی رکنیت سے بھی استعفیٰ دوں گا۔‘‘

لیکن، اُنھوں نے واضح کیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) ہی میں رہیں گے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں فوری طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ پارٹی قیادت اور حکومت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اُن کی وزیر اعظم نواز شریف سے ’ون ٹو ون‘ ملاقات نہیں ہوئی ہے اور وہ میڈیا کے ذریعے اُنھیں یہ مشورہ دینا چاہیں گے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر آپ کے حق میں آئے تو ’’آپ اس فیصلے کو عاجزی اور انکساری سے قبول کرنا۔‘‘

چوہدری نثار نے اپنی نیوز کانفرنس کے ذریعے وزیر اعظم سے کہا کہ اگر فیصلہ خلاف بھی آیا تو ’’آپ نے بہت صبر و تحمل سے ری ایکٹ کرنا ہے‘‘۔

وزیر داخلہ نے قیادت سے اختلافات کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اُنھیں جماعت کے مشاورتی اجلاسوں میں نہیں بلایا گیا بلکہ پارٹی کے اندر سے بعض شخصیات کی طرف سے اُن پر تنقید کی گئی کہ اُن کے فوج سے تعلقات ہیں۔

چوہدری نثار نے کسی کا نام لیے بغیر اس جانب بھی اشارہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) میں بعض شخصیات اُن کی مخالفت کر رہی ہیں اور وزیر اعظم بھی اُن کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) ہی کا حصہ رہیں گے، کیوں کہ، اُن کے بقول، وہ پارٹی بنانے والوں میں شامل ہیں اور مشکل وقت میں جماعت کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔

حالیہ ہفتوں میں یہ تاثر بھی دیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم کی ممکنہ نا اہلی کی صورت میں چوہدری نثار وزارت عظمٰی کے اُمیدوار ہو سکتے ہیں۔ لیکن، اُنھوں نے اپنی نیوز کانفرنس میں اس کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی عہدے کے اُمیدوار نہیں ہیں۔

ادھر، ذرائع ابلاغ نے چوہدری نثار کے ترجمان کے حوالے سے جاری وضاحتی بیان میں بتایا ہے کہ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’’کل شام تک میرا یہ ذہن تھا کہ میں کوئی انتہائی فیصلہ کروں۔ وزارت اور ایم این اے شپ چھوڑنے کا فیصلہ گزشتہ شام تک کا تھا۔‘‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار نے کہا کہ چند دوستوں سے ملاقات کے بعد فیصلہ تبدیل کردیا تھا اس لیے میڈیا اس حوالے سے سیاق و سباق کو مد نظر رکھے۔

واضح رہے کہ نیوز کانفرنس کے دوران چوہدری نثار کا کہنا تھا پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ کچھ بھی آئے وہ وزارت اور اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG