رسائی کے لنکس

logo-print

'باقی کون بچا، صرف آپ اور میں؟'


سینیٹر رضا ربانی، وفاقی وزیر فواد چاہدری اور سینیٹر رضا ربانی

سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نیب قانون میں ترمیم سے کاروباری طبقے، بیوروکریٹس، ججز اور فوج کو نیب قوانین کے اطلاق سے مستثنی کر دیا ہے۔ ان کے بقول، "باقی کون بچا، صرف آپ اور میں؟"

انہوں نے سوال کیا کہ کیا نیب کا قانون صرف سیاست دانوں کے لiے ہے؟

رضا ربانی نے یہ بھی کہا کہ 'پارلیمینٹیرینز کا احتساب پارلیمنٹ کے اندر کرنے کی اجازت ہونی چاہئے ، ورنہ اگر حکومت کو با معنی احتساب کرنے میں دلچسپی ہو تو صرف ایک قانون اور ایک ادارے کے تحت سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے'۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کو تالا لگایا گیا، محسوس ہوتا ہے آئین موجود بھی ہے اور معطل بھی ہے۔ ان کے بقول، آئین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، آئین کے مطابق سینیٹ کے دو سیشنز کے درمیان 120 دن کا وقفہ نہیں ہو سکتا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انہوں نے متعدد خط لکھے لیکن اجلاس بلانے میں تاخیر کی جاتی رہی۔ اکتوبر سے لے کر آج تک جان بوجھ کر اجلاس نہیں بلایا گیا جبکہ ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق رضا ربانی نے کہا کہ حکومت نے اس اہم معاملے پر آرمی کے ادارے کو شرمندہ کرایا۔ یہ حکومت ایک نوٹی فکیشن درست انداز میں عدالت میں پیش نہ کر سکی۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر راجہ ظفر الحق نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ احتساب کا عمل یک طرفہ، ظالمانہ اور غیر قانونی طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے طریقے سے کوئی مطمئن نہیں ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن کے ایجنڈے کو خاطر میں نہ لانا منفی سوچ کی عکاسی ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یوں لگ رہا ہے کہ حکومت، اپوزیشن، عدلیہ اور فوج آپس میں دست و گریباں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے تمام ادارے قصور وار ہیں اور نا ہی بے قصور، غلطیاں عدلیہ سے بھی ہوئی ہوں گی اور فوج سے بھی۔ اگر ہم آپس میں دست و گریبان رہے تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اور ملک پھر بہت پیچھے رہ جائے گا۔"

فواد چوہدری نے قومی معاملات پر اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر اور نیب قوانین پر اتفاق رائے نہ ہوا تو حالات بگاڑ کی طرف جائیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ فوج صرف پی ٹی آئی کی نہیں مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کی بھی ہے۔ عدلیہ کا احترام لازم ہے، لیکن سپریم کورٹ آرٹیکل 62 کے تحت ہمارا احتساب کرتی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ خود پارلیمانی کمیٹی میں آنے کو تیار نہیں۔

XS
SM
MD
LG