رسائی کے لنکس

logo-print

پارلیمان کو ضامن مانا جائے تو کردار کے لیے تیار ہیں: سراج الحق


سراج الحق کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اگر دونوں فریق پارلیمان کو ضامن منانے پر تیار ہیں تو سیاسی جماعتیں اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کا حل تلاش کرنے کے لیے جہاں حکومت کی سطح پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے وہیں اسی سلسلے میں حزب مخالف کی جماعتیں بھی سرگرم ہیں۔

مذہبی و سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی قیادت میں سیاسی جماعتوں کے قائدین کا خصوصی مشاورت اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔

سراج الحق کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اگر دونوں فریق پارلیمان کو ضامن منانے پر تیار ہیں تو سیاسی جماعتیں اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

’’تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات پر یکسو ہیں، کہ آج بھی دونوں فریق مل کر پارلیمان کو اپنا ضامن بنانے کا اختیار دیتے ہیں تو پارلیمان میں قائد حزب اختلاف موجود ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘
دریں اثنا وزیراعظم ہاؤس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نواز شریف نے موجودہ سیاسی صورت حال پر اُن سے مشاورت کی۔

جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ مسائل کا حل تشدد کے ذریعے نہیں نکالا جا سکتا۔

’’ہم نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ لڑنے کی بجائے آپس میں سر ٹکرانے کی بجائے اور ڈنڈے کو ڈنڈے سے، پتھر کو پتھر سے اور سر سے سر کو ٹکرانے کی بجائے اب بھی مزکرات کا راستہ ایک ایسا راستہ ہے جو دنیا میں معروف ترین راستہ ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتہ کی رات تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم ہاوس کی طرف پیش قدمی کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG