رسائی کے لنکس

پاکستان میں انتخابات سے پہلے ہی 28 جماعتوں کے اتحاد بن گئے


حیرت انگیز طور پر وہ جماعتیں اور شخصیات جو ایک دوسرے کے لئے ناقابل برداشت تھیں، وہ آپسی اتحاد بنانے میں بھی پھرتی دکھاتے ہوئے یوں ایک ہو گئی جیسے کبھی کوئی اختلاف تھا ہی نہیں۔

پاکستان میں عام انتخابات میں ابھی چھ مہینے سے بھی زیادہ کا وقت ہے لیکن سیاسی پارٹیوں کے اتحاد اس تیزی سے اور اچانک بننا شروع ہوگئے ہیں اور صرف دو یا تین روز میں 28جماعتوں پر مشتمل کئی اتحاد دیکھتے ہی دیکھتے وجود میں آ گئے۔

حیرت انگیز طور پر وہ جماعتیں اور شخصیات جو ایک دوسرے کے لئے ناقابل برداشت تھیں، وہ آپسی اتحاد بنانے میں بھی پھرتی دکھاتے ہوئے یوں ایک ہو گئی جیسے کبھی کوئی اختلاف تھا ہی نہیں۔

اس کی سب سے بڑی مثال’آل پاکستان مسلم لیگ‘ کے راہنما اورسابق صدر پرویز مشرف کی زیرقیادت بننے والا ’پاکستان عوامی اتحاد ‘ہے جو ایک ، دو نہیں 23 جماعتوں پر مشتمل ہے۔ان جماعتوںمیں کئی ایسی مذہبی و دینی جماعتیں بھی شامل ہیں جو لال مسجد کے وقت اور اس سے بعد پرویز مشرف کی مخالف رہی ہیں۔

23جماعتوں کا ’پاکستان عوامی اتحاد
’پاکستان عوامی اتحاد ‘ میں آل پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ پاکستان عوامی تحریک، سنی اتحاد ، مجلس وحد ت المسلمین، پاکستان سنی تحریک، مسلم کانفرنس کشمیر، پاکستان مسلم لیگ جونیجو، پاکستان مسلم لیگ کونسل ، پاکستان مسلم لیگ نیشنل ، عوام لیگ ، پاک مسلم الائنس، پاکستان مزدور محاذ، کنزرویٹو پارٹی ، مہاجر اتحاد تحریک، پاکستان انسانی حقوق پارٹی ، ملت پارٹی ، جمعیت علماپاکستان نیازی گروپ، عام لوگ پارٹی، عام آدمی پارٹی، پاکستان مساوات پارٹی، پاکستان منیارٹی پارٹی، جمعیت مشائخ پاکستان اور سوشل جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی شامل ہیں۔

یہ اتحاد گزشتہ روز عمل میں آیا ۔ اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے پرویز مشرف کو مشترکہ طور پر تمام جماعتوں کی قیادت کرنے کی ذمے داری خوشی خوشی ایک پریس کانفرنس میں سونپی۔ پرویز مشرف نے اس کانفرنس میں ٹیلی فون پر خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صحیح وقت پر پاکستان آئیں گے اور اپنے خلاف قائم مقدمات کا سامنا کریں گے۔​

متحدہ مجلس عمل بحال
’پاکستان عوامی اتحاد ‘ سے ایک روز قبل ماضی کے انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرنے والا دینی جماعتوں کا اتحاد ’ متحدہ مجلس عمل ‘بحال ہوگیا۔ بحالی کا اعلان لاہور میں ہونے والے اجلاس میں ہوا تاہم جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ’ بحالی کا اصولی فیصلہ ہوچکا ہے تاہم باقاعدہ اعلان اگلے مہینے کیاجائےگا۔‘

​ایم ایم اے 2002کے انتخابات میں سابق صدر پرویز مشرف کے شدید مخالف اتحاد کے روپ میں سامنے آئی تھی ۔انتخابی نتائج کے روپ میں اسے 63سیٹیں ملی تھیں اور وہ قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت تسلیم کی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود اتحاد صرف تین سال ہی اپنا وجود برقرار رکھ سکا اور کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے ساتھ ہی وہ تتر بتر ہوگیا۔

ایم ایم اے میں جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی، تحریک جعفریہ پاکستان، جماعت اہلِ حدیث اور متحدہ دینی محاذ شامل رہی ہیں۔

سندھ نیشنل فرنٹ ، تحریک انصاف میں ضم
پارلیمانی انتخابات 2018کے لئے مختلف اتحادکے ساتھ ساتھ مختلف پارٹیاں بھی ایک دوسرے میں ضم ہونے لگی ہیں۔ سندھ کے سینئر سیاست دان ممتاز بھٹو کی جماعت سندھ نیشنل فرنٹ ،پاکستان تحریک انصاف میں ضم ہوگئی ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دستخط کے بعد سامنے آیا ہے۔

سابق وزیر خارجہ کی پی ٹی آئی میں واپسی
سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمدعلی نے بھی واپسی کی راہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس بات کا اعلان انہوں نے مقامی میڈیا پر ازخود کیا۔

ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا ’نامکمل اتحاد
اور آخر میں ایک ایسے نامکمل اتحاد کا تذکرہ جو ایک رات بنا اور اگلے دن توٹ گیا۔ متحدہ قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی کا یہ اتحاد پچھلے دن دنوں سے مقامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے ۔ دونوں جماعتوں کے راہنماؤں یعنی فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نےبدھ 8نومبر کو کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اگلے سال ہونے والے انتخابات میں دونوں جماعتیں ایک نئے نام سے سیاسی جماعت بناکر ایک نشان اور ایک ایجنڈے کے تحت انتخاب لڑیں گی۔ لیکن اس اتحاد کے مخالف متحدہ کے ناراض کارکنوں کو یہ انضمام منظور نہ ہوا اور انہوں نے فاروق ستار سے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔

اس پر فاروق ستار نے رات گئے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں ایم کیوایم اور سیاست سے علیحدگی کا اعلان کیا جو کارکنوں کے اصرار پر چند گھنٹے بعد ہی واپس لے لیا گیا ۔ ساتھ ہی ناراض کارکنوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایم کیو ایم ایک الگ جماعت ہے اور کسی اور پارٹی میں اس کا انضمام نہیں ہوسکتا لہذا دونوں جماعتوں کا اتحاد چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ہی ختم ہوگیا۔

تب سے اب تک دونوں جماعتوں کے راہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ہفتے کو بھی مصطفیٰ کمال نے ایک پریس کانفرنس کی اور واضح کیا کہ انضمام فاروق ستار چاہتے تھے اور انہی کی خواہش پر ایسا کیا گیا۔

ادھر فاروق ستار نے ہفتے کو متحدہ قومی موومنٹ کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے عزیز آباد میں واقع ایک یادگار کا دورہ کیا اس دورے میں رابطہ کمیٹی کے ارکان اور عام سیاسی ورکز بھی شامل تھے۔ فاروق ستار اپنی جماعت کے کارکنوں کے قبرستان بھی جانا چاہتے تھے لیکن سیکورٹی خدشات کی وجہ سے انہیں وہاں جانے سے روک دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG