رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی سیاست میں اگلا ہفتہ ہنگامہ خیز ہو سکتا ہے


نواز شریف اور آصف زرداری، فائل فوٹو

پاکستان میں حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں نے سڑکوں پر آنے کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت اس وقت جیل جاتی ہوئی نظر آرہی ہے اور بظاہر دونوں پارٹیاں اس بار اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر لا کر حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتی ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور جمعے کے روز بینکنگ کورٹ میں پیش ہوں گے اور اس موقع پر پیپلز پارٹی نے شو آف پاور کا فیصلہ کیا ہے اور تمام ارکان اسمبلی اور کارکنوں کو بینکنگ کورٹ میں جمع ہونے کا کہا ہے۔ اگر فیصلہ آصف علی زرداری کی گرفتاری کی صورت میں آتا ہے تو یہ اجتجاج شدت اختیار کر جائے گا اور اگر عبوری ضمانت میں توسیع مل جاتی ہے تو اجتجاج اور پاور شو کے بعد گھر کی راہ لی جائے گی۔

یہی صورت حال پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف کی ہے جن کے خلاف 24 دسمبر کو العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس پر فیصلہ آنا ہے۔ نواز شریف جو اپنی اہلیہ کلثوم نواز کے انتقال کے باعث خاصے خاموش تھے، فیصلے کا وقت قریب آنے پر بیانات دینے لگے ہیں اور حالیہ تین دنوں میں انہوں نے دو بار پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ فیصلہ محفوظ ہونے پر انہوں نے جج ارشد ملک اور باہر آ کر صحافیوں سے بھی بات کی اور اپنی بے گناہی کا یقین دلانے کی کوشش کی۔

پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی جمعرات کی شام پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس کا کوئی باقاعدہ اعلان تو نہیں کہا گیا تاہم وہاں موجود پیپلز پارٹی کے ارکان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بس اب بہت ہو گیا۔ اب انتقام کی سیاست نہیں چلنے دیں گے۔

خورشید شاہ نے بھی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔ ملک میں جنگل قانون ہے تو انہیں گرفتار کر لیا جائے۔

مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو دبانے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ پیپلز پارٹی کو کمزور سمجھنے والوں کو پتہ چل جائے گا ہم کیا ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) لیگ نے نوازشریف کے خلاف فیصلہ آنے پر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آرگنائزنگ کمیٹی نے نوازشریف کی سزا کی صورت میں سینیر راہنماؤں کی کمیٹی قائم کر دی ہے جو عوامی رابطہ مہم کی نگرانی کرے گی۔

اس کمیٹی میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا ثناءاللہ، خواجہ آصف، حمزہ شہباز، مشاہد اللہ اور ایاز صادق بھی شامل تھے۔

مسلم لیگ (ن) براہ راست نوازشریف کی گرفتاری کی بات نہیں کر رہی البتہ عوام کو سڑکوں پر لانے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا کہا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ اگر نوازشریف کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اس پر مہنگائی کا سلوگن ساتھ لگا کر عوام کو سڑکوں پر لایا جائے، کیونکہ ماضی میں نوازشریف کی گرفتاری کے وقت بھی عوام کو زیادہ بڑی تعداد میں نہیں نکالا جا سکا تھا۔ نواز شریف نے بھی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مہنگائی کا ہی معاملہ اٹھایا اور کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے دس ہزار روپے میں آنے والا راشن اب سولہ ہزار میں آ رہا ہے

پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے آئندہ دنوں میں نوازشریف اور آصف علی زرداری کی ملاقات کے امکان سے متعلق سوال پر مثبت ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ ابھی زرداری صاحب یہاں نہیں۔ وہ یہاں ہوں اور میاں صاحب ہوں تو یہ ملاقات ہو سکتی ہے۔ جبکہ دونوں جماعتوں کے قائدین کی گرفتاری کی صورت میں مشترکہ تحریک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہر پارٹی اپنا اپنا اجتجاج کرتی ہے لیکن اگر حالات سیاست اس طرف لے کر جاتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے۔

دونوں جماعتوں کے قائدین کی باتوں اور تیاریوں سے ہی نہیں بلکہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بیانات بھی حزب اختلاف کے قائدین کے مستقبل قریب کی کہانی سنا رہے ہیں۔ خود عمران خان کا بیان کہ بڑی گرفتاریاں ہو سکتی ہیں بہت سی ان کہی باتیں بتا جاتا ہے۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری کئی مرتبہ اسمبلی میں کھڑے ہو کر اعلان کر چکے کہ ان کو جمہوریت خطرے میں نہیں بکہ جیل نظر آ رہی ہے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں سال کا یہ آخری عشرہ خاصا ہنگامہ خیز نظر آرہا ہے جس میں حزب اختلاف کے قائدین کی گرفتاریوں کی صورت میں سخت سردی میں اجتجاج اور اسمبلی اور سینیٹ کی ہنگامہ آرائیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے بلاول بھٹو زرداری تو باہرہوں گے لیکن مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لیے کیا مریم نواز ایک بار پھر باہر آئیں گی یا نہیں؟ اس سوال کا جواب شاید صرف مریم نواز اور نواز شریف ہی کے پاس ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG