رسائی کے لنکس

logo-print

حزب اختلاف کے اتحاد نے خطرے کی گھنٹی بجا دی


گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرہ، 3 اگست 2018

سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ان دنوں پاکستان کی سیاست میں دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں اپوزیشن اتحاد نے حکمران جماعت کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے اکٹھے ہونے کا کریڈٹ پی ٹی آئی کی بچگانہ پالیسیوں کو جاتا ہے۔ جبکہ حکومت نے اپوزیشن اتحاد کو اپنی لوٹ مار بچانے کا الائنس قرار دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر حکومتی ارکان بھی مل کر بیٹھ گئے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں ملکی معاشی صورت حال اور اپوزیشن اتحاد پر حکومتی حکمت عملی طے کی گئی جبکہ منی بجٹ پر اراکین کو اعتماد میں لیا گیا۔

حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو
حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

اجلاس میں شریک ارکان اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا کہ جب سے حکومت میں آئے ہیں پارٹی سطح پر رابطے ختم کر دیئے گئے۔ وزرا ملاقات کا وقت ہی نہیں دیتے۔ یہی حالات رہے تو جنوبی پنجاب میں آئندہ انتخابات میں مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چیف وہپ عامر ڈوگر نے شکوہ کیا کہ وزرا کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اجلاس میں شرکت تک نہیں کی۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ وزرا اپنے چیمبرز اور دفاتر میں ارکان سے مسلسل رابطہ یقینی بنائیں۔

فیصل آباد ڈویژن کے پی ٹی آئی ارکان نے گلہ کیا کہ کاشت کاروں سے گنا سرکاری ریٹ پر نہیں خریدا جا رہا۔ شاہ محمود قریشی نے تسلی دی کہ چین کو گندم، گنے، چاول، پھل اور سبزیوں کی برآمد کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔

اس موقع پر وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا پارٹی نے جب کہا، میں بریفنگ کے لئے حاضر ہوا۔ اپنے کام کو پورا وقت دے رہا ہوں۔ پارٹی کی امیدوں اور حکومتی اہداف کو ضرور پورا کروں گا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے یقین دلایا کہ ہر وزیر ہفتے میں ایک روز ارکان کو بریف کرے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی نے ملک کی معاشی صورت حال پر وزیر خزانہ سے بریفنگ کا مطالبہ کیا تھا جس پر وزیر خزانہ اسد عمر نے انہیں بریفنگ دی اور اقتصادی صورت حال سے آگاہ کیا۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ معاشی بحران حکومت کی بدترین نااہلی کا ثبوت ہے۔ معاشی، انسانی اور جمہوری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ میثاق جمہوریت کو آگے بڑھایا جائے گا۔

نیب حراست میں پاکستان مسلم لیگ نے کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے اکھٹے ہونے کا کریڈٹ حکومت کی پالیسوں کو جاتا ہے۔ جس طرح حکومتی ارکان غلطیاں کر رہے ہیں۔ اپوزیشن مل کر ان کا راستہ روکے گی۔ تمام اپوزیشن کا آپس میں ملنا خوش آئند ہے۔

حزب اختلاف کے رہنما آل پارٹیز کانفرنس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں۔ اگست 2018
حزب اختلاف کے رہنما آل پارٹیز کانفرنس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں۔ اگست 2018

اپوزیشن کے اتحاد پر حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد عارضی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے جب پوچھا گیا کہ حکومت کے مطابق اپوزیشن کا اتحاد عارضی ہے تو انہوں نے کہا کہ حکومت بھی یہاں ہے اور ہم بھی یہاں ہیں۔ ہماری ڈپلومیسی فرنٹ ڈور ڈپلومیسی ہے۔ ہمیں کسی بیک ڈور ڈپلومیسی کی ضرورت نہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت نے ملک کو مشکل معاشی صورت حال میں ڈال دیا ہے۔

حکمران جماعت کی زرتارج گل اس حوالے سے کہتی ہیں کہ اپوزیشن کا اتحاد ایک دوسرے کو بچانا ہے لیکن ان کا گھر اڈیالہ جیل ہی ہے۔ تمام اپوزیشن اپنی کرپشن چھپانے کے لیے اتحاد کر رہی ہے۔

اپوزیشن کے اتحاد پر حکومتی ارکان خائف نظر آرہے ہیں اور اس صورت حال میں جب حکومتی ارکان اسمبلی اپنے وزرا سے بھی نالاں ہیں، حکومت کے لیے کام کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزراء سے ملاقات اور بریفنگ کے لیے وقت مانگنا پڑتا ہے۔ وفاقی وزراء کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے آج کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG