رسائی کے لنکس

تحریک عدم اعتماد: 'امریکہ کو پاکستان میں تبدیلی سے کوئی دلچسپی نہیں'


اسلام آباد میں پارلیمان کی عمارت کے سامنے پولیس کا سخت پہرہ۔ 28 مارچ 2022ء
اسلام آباد میں پارلیمان کی عمارت کے سامنے پولیس کا سخت پہرہ۔ 28 مارچ 2022ء

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں جب وزیرِ اعظم کو عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا ہے، امریکہ سمیت دنیا کے دیگر بڑے ممالک حالات و واقعات کو نظر انداز نہیں کرسکتے تاہم حکومت کی تبدیلی ان کے نزدیک اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔ ایسے میں وزیرِ اعظم عمران خان کا خط دکھا کر یہ دعویٰ کرنا کہ کوئی بیرونی طاقت ان کا اقتدار ختم کرنا چاہتی ہے، ماہرین کے نزدیک ایسا دعویٰ ہے جس کی تصدیق مشکل ہے۔کم از کم امریکہ میں عالمی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کی کسی کوشش سے کوئی دلچسپی نہیں۔

رابن رافیل امریکہ کی ایک سابق نائب وزیرخارجہ برائے ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشیا۔ سابق سفارتکار اور پاکستانی امور کی ماہر ہیں۔وہ کہتی ہیں، "صرف اسلئے ہی نہیں کہ ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں اور وزیر اعظم کو لوگوں نے منتخب کیا ہے۔ اور اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی جو پاکستان کے سیاسی نظام کے مطابق پیش کی گی ہے تو انہیں اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔بلکہ امریکہ میں ویسے بھی پاکستان میں کسی تبدیلی سے کوئی دلچسپی نہیں پائی جاتی کیونکہ پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں کے ساتھ دونوں ہی طرح کے تجربات رہے ہیں بعض اچھے اور بعض اتنے اچھے نہیں رہے۔"

ان کے خیال میں امریکہ یقیناً اس میں ملوث نہیں ہونا چاہے گا۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان میں اسوقت سیاسی درجہ حرارت بہت بڑھا ہوا ہے۔ اسکے پیش نظر جتنی جلدی اس تحریک کے بارے میں فیصلہ ہو جائے۔ اتنا ہی پاکستان کے لئے بہتر ہے۔ تاکہ پھر ملک آگے بڑھ سکے۔

روس ۔یوکرین جنگ کے بارے میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ غیر جانبدار ہے اور ایک آزاد خارجہ پالیسی رکھتا ہے۔

روبن رافیل اگرچہ ملکوں کی آزاد خارجہ پالیسی کی حمایت کرتی ہیں تاہم پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ ہر ایک ملک دوسرے کی خارجہ پالیسی پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ نیچر آف بزنس ہے۔

"مثلاً یوکرین کے مسئلے پر ہم نے ہر ملک کو پاکستان کو۔ بھارت کو۔ گلف کے ملکوں کو، افریقہ کے ملکوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لئے جو بھی کوشش کر سکتے تھے۔ کی کہ وہ روس کی مذمت کی قرارداد کی حمایت کریں۔ یہ درست ہے کہ ہر ملک آزاد خارجہ پالیسی چلانا چاہتا ہے۔ جو قابل تحسین بات ہے۔ لیکن عالمی سیاست میں اس قسم کی باتوں کی نوعیت ایسی ہے کہ ایک ملک دوسرے کے ووٹ کو متاثر کرنے کی کوشش ضرورکرتا ہے۔"

اس خط کے بارے میں جو وزیراعظم نے اپنے جلسے میں لہرا کر دکھایا۔ مختلف حلقوں میں مختلف انداز فکر پایا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین ایسے دعووں کو سازشی مفروضے سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔

بوسٹن یونیورسٹی میں پرڈی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے ڈین ڈاکٹر عادل نجم کا خیال ہے کہ یہ اسی طرح کا ایک سازشی مفروضہ ہے جو وقتا فوقتا اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پیش کیے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اسوقت یہ سازشی مفروضے سے زیادہ داخلی سیاست کا مظہر ہے۔ اسوقت پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے۔ اسکا محور یہ نہیں ہے کہ دنیا میں در حقیقت کیا ہو رہا۔ کون پاکستان کے بارے میں کیا سوچ یا کر رہا ہے۔ بلکہ دونوں فریقوں کے لئے ہر چیز کا مرکز و محور تحریک عدم اعتماد ہے۔ ہر چیز اسی کے گرد گھوم رہی ہے۔ اور اس پورے منظر نامے کو اسی حوالے سے دیکھا جانا چاہئیے۔چنانچہ انہیں اس بات پر یقین کرنے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا کہ پاکستان کےحوالے سے عالمی سطح پر کوئی مؤقف بدل رہا ہے۔ یا کوئی تبدیلی آرہی ہے۔

اس خط کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نہ تو اندرون ملک اسکا وہ اثر نظر آرہا ہے جو بقول انکے وزیر اعظم چاہتے تھے اور نہ ہی عالمی سطح پر اسپر کوئی قابل ذکر رد عمل نظر آتا ہے۔

پاکستان کے اس دعوے کے حوالے سے کہ اسے ایک آزاد خارجہ پالیسی اپنانے کی پاداش میں اس صورت حال سے دو چار کیا گیا ہے۔ رابن رافیل کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بعض دوسرے ملکوں کے معاملے میں مسئلہ یہ ہے کہ وہ دوسرے ملکوں پر انحصار کم کرنے کے لئے کچھ زیادہ نہیں کر سکے۔ خاص طور سے اگر پاکستان کو دیکھیں تو IMF وغیرہ پر اسکا بہت زیادہ معاشی انحصار ہے۔ اور IMFپر امریکہ اور مغربی ملکوں کا گہرا اثر ہے جو اسے بیشتر سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ اور ایسے میں بالکل خود مختار ہونا مشکل ہے جب آپکا معاشی انحصار انپر ہو جن سے آپ مکمل خود مختاری چاہتے ہیں۔

کیا اس خط کے بارے میں پاکستانی وزیر اعظم کے انکشاف کے بعد جسکے بارے میں انہوں نےکسی ملک کا نام نہیں لیا۔ پاک امریکہ تعلقات پر کچھ اثر پڑے گا رابن رافیل کہتی ہیں کہ وزیر اعظم نے امریکہ پر کوئی الزام نہیں لگایا۔ یہ ایک عوامی جلسہ تھا۔ انکی جذباتی تقریر تھی اور ایک مشکل صورت حال میں وہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور اس قسم کے سازشی مفروضے جنوبی ایشیا میں بہت مقبول ہیں جو ایسے مواقع پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور انہیں امید ہے کہ امریکی حکومت اس پورے معاملے کو اسی سیاق و سباق میں دیکھے گی۔

لیکن پروفیسر عادل نجم کہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پہلے ہی کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ دوسرے وہ سمجھتے ہیں کہ بیرونی دنیا میں اس تقریر کو سننے والوں کو احساس ہو گاکہ اسکا ہدف اندرون ملک سیاست ہے۔ وزیر اعظم کو ایک سنگین چیلنج درپیش ہے۔ جس سے وہ نمٹنے کی کوشش کر رہےہیں۔ اور اس قسم کی باتوں کی پاکستان میں ایک تاریخ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایسا کیا۔ اور اسوقت اپوزیشن کی جماعتوں میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جس نے کسی نہ کسی وقت Anti-West کارڈیا مغرب کی جانب سے اپنی مخالفت کی کہانی کو یہ کہہ کر استعمال نہ کیا ہو کہ مغرب میں انکے خلاف ایک بڑی سازش ہو رہی ہے۔ اور یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے پورے خطے میں ایک بڑی طاقتور Gimmick ہے اور یہ بڑی بد قسمتی ہے۔ کیونکہ اسکا کوئی فوری اور براہ راست اثر پڑے یا نہ پڑے۔ اس میں بطور مجموعی ملک میں سیاسی بالغ نظری کا فقدان نظر آتا ہے۔ جس سے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا موقف یہ ہے کہ یہ خط اس بات کا ثبوت ہے کہ انکے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ جسکے لئے پیسہ باہر سے آرہا ہے۔ اور لوگ اندر کے استعمال کئے جارہے ہیں۔ اور انہیں ایک آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG