رسائی کے لنکس

logo-print

حاملہ خاتون مبینہ طور پر سسرالیوں کے ہاتھوں قتل


فائل فوٹو

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ایبٹ آباد میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر اس کے سسرالیوں نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے جسے پولیس فی الوقت گھریلو ناچاقی کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے لیکن صوبے میں حالیہ مہینوں میں ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جا چکا ہے۔

مقامی پولیس حکام نے اتوار کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قتل کا یہ واقعہ پکل نامی گاؤں میں پیش آیا جو کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ملحق ہے۔

قتل کی جانے والی خاتون حاملہ تھیں جسے مبینہ طور پر اس کے خاوند کے بھائی نے گولی مار کر قتل کیا۔

مقتولہ کے والد نے خاتون کے ساس، سسر، خاوند اور اس کے ایک بھائی کو ملزم نامزد کیا ہے اور پولیس کے مطابق سسر اور دیور کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ ساس اور مقتولہ کا شوہر تاحال مفرور ہیں۔

فی الوقت پولیس نے اس واقعے کے محرکات کی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن ہزارہ پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سعید وزیر نے اس تاثر کو رد کیا کہ یہ غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ گھریلو ناچاقی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے لیکن واقعے کی تفتیش جاری ہے جس کے مکمل ہونے پر ہی کچھ وثوق سے کہا جا سکتا ہے۔

خیبر پختوںخواہ میں رواں برس غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور پولیس عہدیدار سعید وزیر کے بقول ایسے واقعات کوہستان کے علاقے میں زیادہ رونما ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے تدراک کی کوششوں کے سلسلے میں انھوں نے خود مقامی علما اور عمائدین سے ملاقاتیں کر کے انھیں لوگوں کی راہنمائی اور ان میں شعور اجاگر کرنے کی درخواست کی ہے۔

سعید وزیر کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں علما کی طرف سے انھیں مثبت جواب ملا اور انھیں امید ہے کہ دقیانوسی روایات کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی روک تھام میں اس اقدام سے مدد ملے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG