رسائی کے لنکس

logo-print

سرگودھا: اسپتال میں نومود بچوں کی ہلاکت کی تعداد 14 ہو گئی


ڈاکٹر سکندر نے کہا کہ ان میں سے اکثریت ان بچوں کی تھی جن کی پیدائش گاؤں میں غیر تربیت یافتہ دائیوں کی نگرانی میں ہوئی اور ان کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر سرگودھا میں چھ مزید بچے اسپتال میں دم توڑ گئے جس کے بعد گزشتہ چار روز کے دوران ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔

سرگودھا ٹیچنگ اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی پیدائش گھروں اور پرائیویٹ اسپتالوں میں ہوئی تھی اور انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔

ڈاکٹر سکندر نے کہا کہ ان میں سے اکثریت ان بچوں کی تھی جن کی پیدائش گاؤں میں غیر تربیت یافتہ دائیوں کی نگرانی میں ہوئی اور ان کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا۔

ڈاکٹر سکندر نے کہا کہ حمل کے دوران ماؤں کو جب مناسب خوراک نہیں ملتی تو اس وجہ سے ماں کے پیٹ میں بچوں کی نشوونما میں کمی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے پیدائش کے بعد وہ مختلف طبی پیجیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسپتال میں نوائیدہ بچوں کے لیے 25 بستر ہیں لیکن مریض نوزائیدہ بچوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے ایک انکوبیٹر میں بعض اوقات دو بچوں کو بھی رکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سکندر نے کہا کہ اسپتال انتظامیہ کی طرف سے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق "ہلاک ہونے والے بچوں میں سے چھ ایسے تھے جن کا پیدائش کے وقت وزن کم تھا، پانچ وہ تھے جن کی پیدائش قبل از وقت ہوئی اور دو بچے ایسے تھے جن کو اسپتال میں اس وقت لایا گیا جب ان کے جسم میں انفیکشن پھیل گیا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ ان بچوں کی ہلاکت میں طبی عملے کی سستی یا سہولیات کی کمی کی کوئی وجہ نطر نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ٹیجنگ اسپتال ہے اور یہاں پر بچوں کے علاج کی مناسب سہولیات موجود ہیں۔

ڈاکٹر سکندر نے کہا اس وقت اسپتال میں 21 بچے داخل ہیں، جن میں سے تین بچوں کی حالت تشویشناک ہے کیونکہ یہ بچے بھی کم وزن کے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسف‘ کے مطابق پاکستان میں ہر سال لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ بچوں کی پیدائش قبل از وقت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کا وزن کم رہ جاتا ہے اور ان کی زندگیوں کو لاحق خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG