رسائی کے لنکس

logo-print

صدارتی انتخابات میں حمایت کے لیے فضل الرحمن کی زرداری سے ملاقات


پیر کی شام پیپلز پارٹی نے ایک نیوز کانفرنس میں اپوزیشن اتحاد کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد نہیں بلکہ محض ایک بندوبست ہے۔

صدارتی انتخاب کے لیے پاکستان مسلم لیگ(ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے نامزد امیدوار بننے کے بعد مولانا فضل الرحمن نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے حمایت مانگی لیکن پیپلز پارٹی نے فی الحال انہیں صاف انکار کردیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ فضل الرحمان صدارتی امیدوار کے لیے اعتزاز احسن کا نام واپس لینے کے لیے آصف زرداری کو قائل نہ کر سکے۔ اپوزیشن کی تقسیم سے صدارتی انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کامیابی حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کی شام ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں راہنماؤں نے ایک دوسرے سے گلے شکوے کیے۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے شکوہ کیا کہ مولانا آپ تو ہمارے دوست تھے آپ کہاں چلے گئے جس کا فضل الرحمان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں تو اپوزیشن کے ساتھ تھا اور ہوں۔ پیپلز پارٹی نے اے پی سی کے فیصلے کے مطابق شہباز شریف کو ووٹ کیوں نہیں دیا اور اعتزاز احسن کو اپوزیشن کے مشورے کے بغیر کیوں نامزد کیا۔ سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ اب بھی وقت ہے مجھے 5 جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی ساتھ دے تو پانسہ پلٹ دیں گے۔

آصف زرداری نے اعتزاز احسن کو مولانا فضل الرحمان کے حق میں دستبردار کرانے کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ پرسوں تک کاغذات نامزدگی واپس لینے کا وقت ہے پارٹی سے مشورہ کر لوں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی آصف زرداری سے ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی صدارتی امیدوار کے طور پر اعتزاز احسن کا نام واپس لینے کو تیار نہیں جب کہ فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ آج پارٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

اس سے قبل پیر کی شام پیپلز پارٹی نے ایک نیوز کانفرنس میں اپوزیشن اتحاد کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد نہیں بلکہ محض ایک بندوبست ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے ن لیگ کو اعتزاز احسن کے نام پر راضی کرنے کی گزارش کی تھی، لیکن وہ خود امیدوار بن گئے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم عمران خان کا دائرہ کار تنگ کرنا نہیں چاہتے۔ ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کو روکیں گے اور اچھے کاموں کی تائید کریں گے۔ صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف تمام جماعتیں اکٹھی ہوئی ہیں، اسے اس طرح نہ پیش کیا جائے کہ ہم نے اتحاد بنایا تھا جسے توڑ دیا گیا۔ تاہم اپوزیشن کو متحد کرنے میں نہ پہلے کسر چھوڑی ہے نہ اب چھوڑیں گے۔ اعتزاز احسن کو امیدوار بنانا پی پی پی کا اپنا فیصلہ ہے۔ پوری کوشش تھی کہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار آئے۔

آصف علی زرداری کی ایف آئی اے میں طلبی اور پیشی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا 2008 سے زرداری گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے خود کو کمپنی سے علیحدہ کرلیا تھا۔ نہ پہلے کبھی عدالت سے بھاگے ہیں نہ آئندہ راہ فرار اختیار کریں گے۔ فریال تالپور کمپنی کے تمام معاملات کی نگران ہیں۔ اس کیس میں دونوں راہنما ملزم نہیں بلکہ گواہ ہیں۔ ہمارے خلاف ماضی میں بھی دباؤ کے مختلف طریقے اپنائے گئے۔

پی پی پی راہنما نے کہا کہ آصف زرداری سے پیشی کے دوران کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ ابتدائی قسم کی سماعت تھی۔ فاروق ایچ نائیک نے ایف آئی اے افسران سے کہا کہ سوالات لکھ کر دیں۔ ایف آئی اے نے ابھی تک کوئی سوالنامہ نہیں دیا۔ میڈیا میں تفتیش کے متعلق خبریں چل رہی ہیں اور سوالات نشر کیے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس جھوٹی خبریں چلنے کا نوٹس لیں اور ایف آئی اے اس کی وضاحت کرے۔

پیپلز پارٹی کے راہنما چودھری منظور نے کہا کہ ہمیں بار بار مجبوریوں اور دباؤ کے طعنے نہ دیے جائیں۔ ہم معاہدے کرکے باہر نہیں جاتے۔ یہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد نہیں بلکہ صرف ایک بندوبست ہے۔ سب کا اپنا اپنا منشور ہے، اور کوئی ایک دوسرے کا منشور ماننے کے لیے تیار نہیں، اس میں بعض مسائل آئے ہیں، ممکن ہے کہ وہ مسائل حل ہوجائیں۔

موجودہ صورت حال میں اپوزیشن مکمل طور پر تقسیم نظر آ رہی ہے اور امکان ہے کہ اگر اپوزیشن ایسے ہی تقسیم رہی تو صدارتی انتخاب میں حکمران جماعت با آسانی کامیابی حاصل کر لے گی اور تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی صدر بن جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG