رسائی کے لنکس

پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لیے چین کا کردار قابل ستائش ہے: نواز شریف


وزیر اعظم نے رواں ماہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر آستانہ میں افغان صدر اشرف غنی سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرحد آرپار دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے دوطرفہ اور چار ملکی سطح کے طریقہٴ کار پر اتفاق کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے جمعہ کو دفتر خارجہ میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں خاص طور پر پڑوسی ممالک سے تعلقات اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی سے متعلق اُمور پر غور کیا گیا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پُرامن تعلقات اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کو دہرایا۔

اُنھوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے چین کے کردار کو بھی سراہا۔

وزیر اعظم نے رواں ماہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر آستانہ میں افغان صدر اشرف غنی سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرحد آرپار دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے دوطرفہ اور چار ملکی سطح کے طریقہٴ کار پر اتفاق کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ اختتام ہفتہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کابل میں افغان قیادت سے ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔

اس دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کے بعد پاکستان، افغانستان اور چین نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان مسائل کے حل کے لیے ایک حکمتِ عملی وضع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ الزام تراشی کی بجائے پاکستان اور افغانستان کو بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی راہ تلاش کرنی چاہیئے۔

اُن کے بقول، ’’اگر جو الزامات وہ (افغانستان) لگاتا ہے اور اگر ان میں کوئی حقائق ہیں تو میرا خیال میں پاکستان کو چاہیئے ان کی بات کی سمجھیں اور کارروائی کریں اور اگر واقعی کوئی قیادت ہے چاہے وہ حقانی نیٹ ورک کی ہو یا (طالبان) شوریٰ ہو اور یہاں پاکستان میں وہ مقیم ہیں پاکستان کی زمین سے وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں تو پھر ظاہر ہے ان کی بات کو سمجھیں اور کارروائی کریں۔ لیکن، اگر یہ حقیقت نہیں ہے اور جو کہ میں بھی سمجھتا ہوں کہ یہ نہیں ہے اور پاکستان کا سرکاری موقف بھی یہی ہے ۔۔۔ تو پاکستان ان سے کہے کہ آئیں آپ ہمارے علاقے میں آکر دیکھیں اور ہمیں بتائیں کہ وہ کہاں مقیم ہیں اور اگر وہ وہاں مقیم ہیں تو پھر ہم ان کو ہٹا دیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ وزارت خارجہ کا قلمدان بھی وزیر اعظم نواز شریف کے پاس ہے اور وہ وزارت کے معاملات مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ذریعے چلاتے ہیں۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں افغانستان اور ایران سے تعلقات کے بارے میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔

اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی اور علاقائی سطح پر بدلتی صورت حال کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجحیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بیان کے مطابق، سکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے افغانستان، بھارت اور امریکہ سے تعلقات کے بارے میں چیلنجوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

اُنھوں نے مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے بارے میں بھی شرکا کو آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی کہ افغانستان سے تعلقات میں بہتری کے بارے میں لائحہ عمل وضع کیا جائے۔

وزیر اعظم نے وزارت خارجہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو مسلسل اجاگر کیا جائے، جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ اور بھارت کے مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کی صورت حال کا ذکر نا کرنے پر بھی پاکستانی وزیر اعظم نے تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں ہی پڑوسی اپنے اپنے ہاں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ چینی وزیر خارجہ کے کابل اور اسلام آباد کے دورے کے بعد پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز بات چیت کے لیے افغانستان جا سکتے ہیں۔ تاہم، تاحال سرکاری طور پر اس ممکنہ دورے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG