رسائی کے لنکس

پاکستان میں اتوار کو یوم عاشور کے سلسلے میں ملک بھر میں جلوس نکالے جا رہے ہیں جس میں پیغمبر اسلام کے نواسے حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی کربلا میں شہادت کی یاد میں نوحہ خوانی اور عزاداری کی جا رہی ہے۔

تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ماتمی جلوسوں کے لیے سکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکاروں کو ان جلوسوں کے ساتھ اور ان کی طرف جانے والے راستوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور اور راولپنڈی سمیت تمام بڑے شہروں میں موبائل فون سروس صبح ہی سے معطل کر دی گئی تھی جو رات کو دیر گئے بحال کی جائے گی۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس بھی اتوار کو معطل ہے۔

دسویں محرم کے یہ جلوس اپنے اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے شام ڈھلے اور رات گئے ختم ہوں گے۔

صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس دن کی مناسبت سے قوم کے نام اپنے الگ الگ پیغامات میں امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوںکے فلسفے پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ امام حسین کی قربانی کے فلسفے کو سمجھتے ہوئے ملک سے انتہا پسندی جیسے مسائل سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے قوم کو اپنے مذہبی، مسلکی اور نسلی تعصبات کو ختم کر دینا چاہیے۔

پاکستان میں شیعہ اور سنی مسالک کے درمیان تناؤ کی وجہ سے محرم کے یہ دس دن بہت حساس تصور کیے جاتے رہے ہیں اور ماضی میں ان دنوں میں تخریب کاری کے علاوہ فرقہ وارانہ مہلک حملوں کے واقعات بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔

تاہم دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جاری کارروائیوں کے باعث حالیہ برسوں میں ماضی کی نسبت یہ ایام قدرے پرامن طور پر ہی گزرتے آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG