رسائی کے لنکس

logo-print

قرآن کی بے حرمتی پر احتجاجی مظاہرے جاری


کراچی میں مظاہرے میں شریک افراد

اسلام آباد میں خود امریکی سفارت خانہ ایک بیان میں قرآن کے نسخے کو نذر آتش کرنے کے واقعے کی مذمت کر چکا ہے اور سفیر کیمرون منٹر کے بقول یہ محض چند افراد کا ذاتی فعل تھا جو امریکہ میں اسلام سے متعلق مجموعی جذبات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ایک روز قبل افغانستان کے صدر نے بھی فلوریڈا میں قرآن کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے دونوں مذاہب کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چھوٹے چرچ کے پادری ٹیری جونز کی نگرانی میں قرآنی نسخے کو نذرآتش کرنے کے واقعے کے خلاف پاکستان میں سرکاری اور عوامی سطح پر احتجاج جاری ہے اور اس سلسلے میں جمعہ کو خاص طور پر مذہبی تنظیموں کی طرف سے کراچی ، لاہور اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔

نماز جمعہ کے بعد ہونے والے ان مظاہروں کے قائدین نے قرآن کو نذر آتش کرنے کی پُرزور مذمت کی جب کہ مظاہروں میں شامل افراد نے اس واقعے کو ”ناقابل برداشت“ قرار دیتے ہوئے شدید نعرہ بازی کی ۔ بعض مقامات پر مشتعل افراد نے سڑکوں پر ٹائروں کو آگ لگا دی جس سے گاڑیوں کی آمدورفت میں بھی خلل پڑا۔ سب سے بڑا مظاہرہ کراچی میں ہوا جس میں لگ بھگ دو ہزار افراد نے شرکت کی۔

صوبہ خیبر پختون خواہ کی قانون ساز اسمبلی کے اراکین نے جمعہ کو متفقہ طور پر اس واقعے کے خلاف ایک مذمتی قرارداد بھی منظور کی۔

قرآن کی بے حرمتی کے اس واقعے کی بڑے پیمانے پر تشہیر نہیں ہوئی ہے تاہم پاکستان میں حکومت اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس کی مسلسل شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔

رواں ہفتے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اس واقعے سے دنیا کے مہذب معاشروں میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو دھچکا لگے گا جب کہ وزارت خارجہ نے اسے انتہاپسند وں کی طرف سے ایک قابل ملامت فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے گستاخانہ فعل صریحاً بین المذاہب ہم آہنگی کے نظریے کی نفی کرتے ہیں۔“

اسلام آباد میں خود امریکی سفارت خانہ ایک بیان میں قرآن کے نسخے کو نذر آتش کرنے کے واقعے کی مذمت کر چکا ہے اور سفیر کیمرون منٹر کے بقول یہ محض چند افراد کا ذاتی فعل تھا جو امریکہ میں اسلام سے متعلق مجموعی جذبات کی نمائندگی نہیں کرتا۔

ایک روز قبل افغانستان کے صدر نے بھی فلوریڈا میں قرآن کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے دونوں مذاہب کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

امریکہ پر 11ستمبر2001 ء کے دہشت گرد حملوں کے 10 سال مکمل ہونے پر گذشتہ سال ستمبر میں پادری ٹیری جونز کے بقول اُس نے احتجاجاً قرآن کے نسخے نذر آتش کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم دنیا بھر میں اس کی شدید مخالفت کے بعد اُس نے اپنا ارادہ ترک کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG