رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان کے قبائلیوں کا اسلام آباد میں احتجاج


ان قبائلیوں کا موقف تھا کہ میران شاہ اور شمالی وزیرستان میں دیگر مقامات پر جو مارکیٹیں بنائی جا رہی ہیں اس کام کو روکا جائے اور اُن کے بقول تعمیرات کا یہ کام قبائلیوں کو مشاوت میں لیے بغیر نہیں کیا جانا چاہیئے۔

افغان سرحد کے قریب واقع پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ کے دوران کئی تجارتی مراکز تباہ ہوئے جب کہ بعض دوکانوں و مارکیٹوں کو خود قبائلی انتظامیہ نے بھی مسمار کیا۔

دہشت گردی سے متاثرہ اس قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جمعرات کو اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر ایک علامتی احتجاجی مظاہرہ کیا۔

ان قبائلیوں کا موقف تھا کہ میران شاہ اور شمالی وزیرستان میں دیگر مقامات پر جو مارکیٹیں بنائی جا رہی ہیں اس کام کو روکا جائے اور اُن کے بقول تعمیرات کا یہ کام قبائلیوں کو مشاوت میں لیے بغیر نہیں کیا جانا چاہیئے۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان کے بیشتر حصوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیے جانے کے بعد اس قبائلی علاقے کے بعض حصوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

قبائلی انتظامیہ اور فوج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جو بازار مسمار ہوئے اُن کی جگہ منصوبہ بندی کے تحت دکانیں اور بازار بنائے جا رہے ہیں۔

تاہم ان تعمیرات کے خلاف اس سے قبل بھی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی صدائے احتجاج بلند کرتے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے میں شریک محسن داوڑ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ قبائلی روایات میں لوگ اپنی زمین اور جائیدار کے معاملات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اُن کے بقول اگر قبائلیوں کی مشاورت کے بغیر اُن کی جگہ کوئی دوکان یا مارکیٹ تعمیر کی گئی تو اس سے قبائلیوں کے درمیان ایک نئی لڑائی چھڑ جائے گی۔

’’اگر میری زمین پر تعمیرات کر کے کسی اور کو الاٹ کر دیں گے، میں تو اس کو وہاں (نہیں رہنے دوں گا)، ہماری قبائلی روایات ہیں ہم اپنی زمین پر کسی کو نہیں چھوڑتے۔۔۔۔ تو یہ ایک خانہ جنگی نما کی صورت حال بن جائے۔ مطالبہ ہمارا ہے کہ اگر وہاں کوئی تعمیرات کرنی بھی ہیں تو وہاں کی زمینوں اور مارکیٹوں کے جو مالکان ہیں اُن کی رائے اور مشاورت سے کی جائے۔‘‘

شمالی وزیرستان کے اتمانزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک شہزادہ خان وزیر کہتے ہیں کہ اُن کے اس احتجاج کا مقصد یہ ہے کہ میرانشاہ میں دوکانوں کی تعمیرات کو روکا جائے۔

’’اگر مشاورت کی جائے تو بات بن جائے گی، کہ کیا ہم خود بنانا چاہتے ہیں یا اُن (حکومت) کو بنانے کی اجازت دیتے ہیں۔۔۔۔ مشاورت کے ساتھ ہم سرکاری نقشے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان کی انتظامیہ نے اتمانزئی وزیر اور داوڑ کے قبیلے کے سرکردہ راہنماﺅں کے ایک جرگے میں جائیدادوں اور دوکانوں کی تقسیم کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن تاحال اس بارے میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی اور میران شاہ میں نو تعمیرشدہ پاکستان مارکیٹ کے حوالے سے کوئی پالیسی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

قبائلی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر دکانیں ان لوگوں کو دی جائیں گی جو فوجی کارروائی اور دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں اور قبائیلوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے ہر ممکن اقدامات کی کوشش کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG