رسائی کے لنکس

مظاہرین کی طرف سے اسلام آباد کا گھیراؤ بدستور جاری


مظاہرین ملک کے توہین مذہب کے قانون میں کی جانے والی تبدیلی اور پھر اسے واپس لینے کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر قانون زاہد حامد کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انتہا پسند مذہبی تنظیم تحریک لبیک یا رسول اللہ کے لگ بھگ 2,000 کارکنوں کی جانب سے اسلام آباد جانے والی بڑی شاہراہ کی ’ناکہ بندی‘ آج چھٹے روز بھی جاری رہی جس کے باعث وفاقی دارالحکومت بڑی حد تک محصور ہو کر رہ گیا ہے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ابھی تک اس صورت حال کو قابو میں لانے کیلئے کسی فوری ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور مسافر بدستور شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

مظاہرین ملک کے توہین مذہب کے قانون میں کی جانے والی تبدیلی اور پھر اسے واپس لینے کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر قانون زاہد حامد کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے اسلام آباد کو راولپنڈی سے ملانے والے فلائی اوور پر پڑاؤ ڈال رکھا ہے جہاں سے روزانہ ہزاروں لوگ اسلام آباد آتے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ راولپنڈی کے رہائشی ہیں اور ملازمت کیلئے روزانہ وفاقی دارالحکومت آتے ہیں۔

یہ مظاہرین ڈنڈوں سے مسلح ہیں اور مظاہرے کے مقام کی طرف بڑھنے والے ہر شخص کی تلاشی لیتے ہیں۔ وہ کسی بھی گاڑی کو گزرنے کی اجازت نہیں دیتے اور اگر کوئی گاڑی اس جانب آتی ہے تو اُس پر پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں۔

یہ مظاہرہ اُس وقت شروع ہوا جب حکومت نے ایک انتخابی قانون کی عبارت میں معمولی تبدیلی کرتے ہوئے ’’میرا اعتقاد ہے‘‘ کی جگہ ’’میں قسم کھاتا ہوں کہ۔۔۔‘‘ کے الفاظ شامل کر دئے تھے۔ حکومت نے بعد میں وضاحت کرتے ہوئےکہا تھا کہ یہ تبدیلی غلطی سے ہوئی تھی اور پھر ایک اور ترمیم کے ذریعے پرانی عبارت بحال کر دی گئی تھی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ قانون میں یہ تبدیلی جان بوجھ کر کی گئی تھی۔

تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حکومت کی طرف سے محض اشک شوئی کے مترادف ہے۔ تاہم حکومت نے مظاہرہ ختم کرنے کیلئے اب تک طاقت کا ستعمال نہیں کیا ہے۔ وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کوئی ایسا مطالبہ منظور نہیں کرے گی جو ملک کے آئین و قانون کے منافی ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ فی الوقت طاقت کا استعمال حکومت کی ترجیح نہیں ہے اور وہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔

اُدھر مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ مظاہرین کے لیڈر خادم حسین رضوی نے اپنا مطالبہ دہرایا ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ اُنہیں ہلاک کیا جاتا ہے یا گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG