رسائی کے لنکس

logo-print

انسانی حقوق کے کارکنوں کی بازیابی کے مطالبات میں تیزی


ایچ آر سی پی کے بقول حالیہ گمشدگیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خطرات سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کے لیے بھی پھیل چکے ہیں۔

انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خلاف آواز بلند کرنے والے چار پاکستانی کارکنوں کی گمشدگی پر انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ قانون سازوں کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ’ہیومین رائٹس واچ‘ نے منگل کو ایک بیان میں ان چار کارکنوں کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کرے۔

انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے لیے آواز بلند کرنے والے یہ کارکن گزشتہ چند دنوں کے دوران اسلام آباد اور لاہور سے لاپتہ ہوئے اور اُن میں سلمان حیدر، وقاض گورایہ، عاصم سعید اور احمد رضا نصیر شامل ہیں۔

ہیومین رائٹس واچ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کے ان سرگرم کارکنوں کو تلاش کرے اور اُن کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

اُدھر پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق ’ایچ آر سی پی‘ نے بھی لاہور اور اسلام آباد میں انسانی حقوق کے چارکارکنوں کی گمشدگی پرتشویش کا اظہار کیا اوران کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن نسرین جلیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ چار کارکنوں کی گمشدگی ملک میں امن کے لیے کام کرنے والوں کے لیے باعث تشویش ہے۔

’’ہیومین رائٹس کمیٹی کی چیئرپرسن ہونے کے ناطے میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ان افراد کو بازیاب کروائے۔۔۔۔ سول سوسائٹی اور وہ تمام لوگ جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک ترقی پسند (سوچ والا) ملک ہونا چاہیئے اُن کے لیے (یہ صورت حال باعث تشویش ہے)۔‘‘

سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ اس بارے میں غور کے لیے جلد وہ کمیٹی کا اجلاس بھی بلائیں گی۔

اُدھر سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے منگل کی سہ پہر اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرہ بھی کیا، جس میں چاروں کارکنوں کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔

مظاہرے میں شریک افراد نے بینر اور گمشدہ ہونے والے کارکنوں کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔

اس مظاہرے میں شریک سابق سینیٹر افراسیاب خٹک اور انسانی حقوق کے ایک کارکن سفیر اللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ گمشدہ ہونے والے چاروں کارکن دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرتے رہے اور اُن کا یوں لاپتہ ہو جانا سول سوسائٹی کے لیے یقیناً باعث تشویش ہے۔

’ایچ آر سی پی‘ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ چاروں افراد سوشل میڈیا پر حکام، انتہا پسندی اورعدم برداشت کے سلسلے میں اپنی تنقیدی آراء کے اظہار کی مناسبت سے جانے جاتے تھے۔

تنظیم کے بقول حالیہ گمشدگیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خطرات سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کے لیے بھی پھیل چکے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے ایک سرگرم کارکن سلمان حیدر کی بازیابی کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس بارے میں ہر ممکن کوشش کریں تاہم دیگر تین افراد سے متعلق تاحال سرکاری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

XS
SM
MD
LG