رسائی کے لنکس

اب پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرائیں گے: قبائلی مظاہرین


وفاقی دارالحکومت میں نیشنل پریس کلب کے باہر موجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ اُن کا احتجاج اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ اُن کے مطالبات کو منظور نہیں کر لیا جاتا یا کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں گزشتہ ماہ ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیے گئے قبائلی نوجوان نقیب اللہ کے قتل کے خلاف اسلام آباد میں پہنچنے والے محسود قبائل کا احتجاج پیر کو مسلسل پانچویں روز بھی جاری ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں نیشنل پریس کلب کے باہر موجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ اُن کا احتجاج اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ اُن کے مطالبات کو منظور نہیں کر لیا جاتا یا کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔

مظاہرے میں شریک شیرزادہ خان نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تاحال کسی اعلٰی حکومتی شخصیت نے آ کر اُن کے مطالبات پر کوئی بات نہیں کی۔

قائدین نے اعلان کیا ہے کہ ’’کل (منگل کو) پارلیمنٹ کے سامنے جائیں گے، وہاں احتجاج کرائیں گے۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور پرامن رہیں گے۔‘‘

یہ قافلہ 26 جنوری کو ڈیرہ اسماعیل خان سے روانہ ہوا تھا اور یکم فروری کو اسلام آباد پہنچا تھا جہاں اب اس میں شامل افراد دھرنا دیئے بیٹھے ہیں جن سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی آ کر خطاب کرتے ہیں۔

شیرزادہ خان نے کہا کہ نقیب اللہ کے قاتلوں کی جلد از جلد گرفتاری کے علاوہ مظاہرے میں شریک افراد کا مطالبہ ہے کہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور لاپتہ افراد کو بازیاب کروایا جائے۔

’’وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں جتنی بھی بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں اُن کو صاف کیا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ نقیب اللہ کا تعلق جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے سے تھا اور اُن کے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کے بعد سوشل میڈیا اور پھر دیگر ذرائع ابلاغ میں موثر آواز بلند کی گئی۔

نقیب اللہ محسود کے قتل کے معاملے پر سپریم کورٹ نے بھی از خود نوٹس لے رکھا ہے جب کہ گزشتہ ہفتے چیف جسٹس ثاقب نثار نے سول اور فوجی اداروں کو نقیب اللہ محسود قتل کے ملزم پولیس افسر راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کا حکم دیا ہے۔

نقیب اللہ کے قتل کے بعد راؤ انوار کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور پولیس کی ایک تحقیقاتی ٹیم اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

راؤ انوار روپوش ہیں اور اُنھیں تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں جن میں تاحال پولیس کو کامیابی نہیں ملی ہے۔

راؤ انوار نے 13 جنوری کو میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں چار مبینہ دہشت گردوں کو شاہ لطیف کے علاقے میں ایک پولیس مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں نسیم اللہ عرف نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

مقتول کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ نقیب اللہ 3 جنوری کو سہراب گوٹھ کے علاقے سے لاپتا ہوا جسے بعد ازاں جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG