رسائی کے لنکس

logo-print

پیغمبر اسلام کے خاکے کی اشاعت کے خلاف مظاہرے، کراچی میں تین زخمی


کراچی میں مظاہرین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کےلیے جب فرانس کے قونصل خانے کی طرف بڑھنا شروع کیا تو ان کی پولیس سے مڈبھیڑ ہوگئی۔

فرانس کے ایک جریدے میں پیغمبر اسلام کے خاکے کی اشاعت کے خلاف جمعہ کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران پولیس اور احتجاجیوں میں جھڑپ سے کم ازکم تین افراد زخمی ہوئے جن میں ایک خبر رساں ایجنسی کا فوٹوگرافر بھی شامل ہے۔

چارلی ایبڈو نامی جریدے میں خاکے کی اشاعت کی دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان نے بھی شدید مذمت کی ہے جب کہ جمعرات کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی اور قانون سازوں نے پارلیمان کے باہر ریلی بھی نکالی۔

مختلف مذہبی جماعتوں کی طرف سے پاکستان کے مختلف شہروں میں جمعہ کو احتجاج اور مظاہروں کا اعلان کیا گیا تھا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت تقریباً تمام بڑے شہروں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان میں شرکت کی۔

کراچی کے علاقے تین تلوار میں اسلامی جمعیت طلبہ کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ایسے ہی ایک مظاہرے میں شریک تھی جنہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کےلیے جب فرانس کے قونصل خانے کی طرف بڑھنا شروع کیا تو ان کی پولیس سےمڈبھیڑ ہوگئی۔

پولیس نے قونصل خانے کی طرف جانے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا جب کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس اور پانی کی تیز دھاروں کا استعمال کیا۔

اس دوران مظاہرین کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

اس ساری صورتحال میں تین افراد زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ حالات پر قابو پانے کے لیے علاقے میں رینجرز کی نفری بھی طلب کر لی گئی۔

چارلی ایبڈو اس سے قبل بھی پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کرچکا ہے جس پر اسے تنقید اور سنگین تنائج کی دھمکیوں کا سامنا رہا۔ گزشتہ ہفتے پیرس میں اس کے دفتر پر شدت پسندوں نے حملہ کر کے مدیر اعلیٰ اور پانچ کارٹونسٹس سمیت 12 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

حملے کی ذمہ داری سے متعلق منظر عام پر آنے والی ایک وڈیو میں القاعدہ کی یمن شاخ نے اسے خاکے کی اشاعت کا ردعمل قرار دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG