رسائی کے لنکس

logo-print

گیس کی بندش اور قیمتوں میں اضافے پر ہڑتال کا اعلان


گیس کی بندش اور قیمتوں میں اضافے پر ہڑتال کا اعلان

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ٹرانسپورٹرز اور سی این جی اسٹیشن مالکان کی نمائندہ تنظیموں نے قدرتی گیس کی فراہمی میں بندش اور قیمتوں میں اضافے کے سرکاری اعلان کے خلاف 30 اور 31 دسمبر کو صوبے بھر میں احتجاجاً ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کراچی میں بدھ کو ایک مشترکہ اجلاس کے بعد آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شبیر سلیمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ماہ کے لیے صوبہ سندھ میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش پر غور کیا جا رہا ہے۔

اُن کے بقول سی این جی کی قیمت میں مسلسل اضافہ کرکے اس کی قیمت پیٹرول کے برابر لانے کی کوشش جیسے اقدامات کے ذریعے اس شعبے کا کارروبار ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شبیر سلیمان نے کہا کہ کئی مرتبہ اعلیٰ حکام سے رابطوں کے باوجود مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، جس کی وجہ سے سی این جی اسٹیشن مالکان اور ٹرانسپوٹرز ہڑتال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

وفاقی حکومت نے بدھ کو گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں 13.98 فیصد تک اضافے کی منظوری دی، جس کا اطلاق مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یکم جنوری سے ہو گا جب کہ اس بارے میں باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔

شبیر سلیمان کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے بعد سی این جی کی قیمت جو اس وقت صوبہ سندھ میں 62 روپے فی کلو گرام ہے تقریباً 80 روپے تک پہنچ جائے گے۔

کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بڑی گاڑیوں کی مجموعی تعداد لگ بھگ 18,000 ہے، جس میں سے تقریباً 16,000 میں سی این جی بطور ایندھن استعمال ہو رہی ہے۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں کو دوبارہ ڈیزل پر لانا اب ممکن نہیں اس لیے اگر گیس کی طویل بندش کی منظوری دے دی گئی تو شہر میں ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر متاثر ہو جائیں گی۔

وفاقی حکومت کے منظور کردہ گیس لوڈ مینیجمنٹ منصوبے کے تحت بدھ کو بھی سندھ بھر میں گیس کی بندش رہی اور ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث بڑی ٹرانسپورٹ نا ملنے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔

پاکستان دنیا بھر میں سی این جی کا سب سے بڑا صارف ہے جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں گاڑیوں میں سی این جی استعمال کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG