رسائی کے لنکس

سبی: احتجاجی مظاہرین کی ہلاکت تشویش ناک


سبی: احتجاجی مظاہرین کی ہلاکت تشویش ناک
سبی: احتجاجی مظاہرین کی ہلاکت تشویش ناک

پاکستان میں حقوق انسانی کی صف اؤل کی غیر سرکاری تنظیم نے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قریبی رشتہ داروں کے حالیہ قتل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر سکورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج ہر کسی کا بنیادی حق ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ( ایچ آر سی پی) کی طرف سے پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ذرائع ابلاغ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب صوبہ بلوچستان کے شہر سبی میں ہفتہ کو تقریباً 300 افراد نے مرکزی شاہراہ کو احتجاجاً بند کر دیا اور نیم فوجی سکیورٹی فورسز ’فرنٹیئر کور‘ کے ایک کاروان کو آگے بڑھنے سے روکا۔

’’طاقت کا اس طرح استعمال اُن لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے جو صوبے میں حالات مزید خراب کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

پُر امن احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ حکام کو مہلک طاقت کا استعمال صرف اُس وقت کرنا چاہیئے جب تمام دیگر کوششیں ناکام ہو چکی ہوں۔

’’صوبے میں پائی جانے والی نازک صورت حال کے تناظر میں ایسے واقعات کو محض امن و امان کے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیئے۔‘‘

ایچ آر سی پی نے حکومت کی جانب سے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کروانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ تفتیش میں سامنے آنے والے حقائق کو ماضی کے برعکس منظر عام پر لایا جائے گا۔

کراچی میں رہائش پذیر نواب اکبر بگٹی کے دو رشتہ داروں کو نامعلوم افراد نے گزشتہ ہفتے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس واقع کا از خود نوٹس لے رکھا ہے اور پیر کو اُنھوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملزمان کو 10 فروری تک گرفتار کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG