رسائی کے لنکس

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، پاکستان کا بھارت سے احتجاج


فائل فوٹو

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی مبینہ "بلا اشتعال فائرنگ" کی مذمت ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ بدھ کو نکیال سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے پار سے ہونے والے فائرنگ میں ایک شہری ہلاک اور دیگر چار زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 22 سالہ عبدالوہاب کے نام سے کی گئی ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیا اور سارک محمد فیصل نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنر راگھرم کو دفتر خارجہ طلب کر کے اس واقعہ پر احتجاج بھی کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا افسوسناک امر ہے جو انسانی وقار اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے عہدیدار کی طرف سے بھارتی سفارت کار پر زور دیا گیا کہ بھارت 2003 میں طے پانے والے فائر بندی کےسمجھوتے کا احترام کرتے ہوئے فائر بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے اس واقعہ اور قبل ازیں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کرے۔

نئی دہلی کی طرف سے اسلام آباد کے اس احتجاج پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم فائرنگ کا یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اور ماضی میں دونوں ہی ملک ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کرنے کا الزام ایک دوسرے عائد کرتے رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت درمیان گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے باہمی تعلقات تناؤ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سےدنوں جانب جانی نقصان ہوا ہے۔

اس کشیدہ صورت حال کی وجہ سے دنوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطے بھی منقطع ہیں اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور دہلی کے درمیان کشیدگی میں اسی صورت ہی کمی آ سکتی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ دوبارہ بحال ہو گا جس کا فی الحال بظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG