رسائی کے لنکس

logo-print

پی ٹی ایم رہنماؤں کی درخواستِ ضمانت کی سماعت 20 جون تک ملتوی


ہی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر اور محسن داوڑ، فائل فوٹو

بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کی رخصت کے باعث پشتون تحفظ تحریک کے زیر حراست رہنماؤں اور ممبران قومی اسمبلی کی ضمانت پر رہائی کی درخواستوں کی سماعت 20 جون تک ملتوی ہو گئی ہے۔

جنوبی وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو پیر کے روز بنوں کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جس نے ان کے عدالتی ریمانڈ میں 27 جون تک توسیع کر دی۔

پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی کی سربراہی میں وکلاء کے ایک پینل نے محسن داوڑ اور علی وزیر کی ضمانت پر رہائی کی درخواستیں چند روز بنوں کی ایک عدالت میں دائر کیں تھیں جس کی سماعت پیر کو ہونا تھی۔

پینل کے ایک وکیل طارق افغان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سماعت ملتوی کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ پولیس نے دونوں درخواستوں کے متعلق ابھی تک عدالت میں ریکارڈ جمع نہیں کرایا ہے جس کی عدم موجودگی میں درخواستوں کی سماعت نہیں ہو سکتی۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر کو بنوں میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے لیے پشاور سے لایا گیا تھا، لیکن جج کی رخصت کے باعث انہیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنوں کی عدالت میں پیش کیا گیا جنہوں نے ان کے عدالتی ریمانڈ میں 27 جون تک توسیع کر دی۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے ان دونوں اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے معذرت کر دی ہے۔

علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت پشتون تحفظ تحریک کے کئی کارکنوں کے خلاف 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے خڑ کمر میں سیکورٹی اہل کاروں کے ساتھ جھڑپ کے بعد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ یہ افراد اب پشاور کی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔

ادھر حکام نے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے شنہ خوڑ سے خڑکمر تک کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہاں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ تاہم علاقے میں ذرائع ابلاع کو رسائی حاصل نہ ہونے کے باعث حکام کے بیانات اور دعوؤں کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں کرفیو کے مسلسل نفاذ سے متعلق عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک تحریک التواء داخل کی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس پر ابھی تک کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG