رسائی کے لنکس

logo-print

پی ٹی ایم رہنماؤں کے مقدمات کی پشاور منتقلی کے لیے درخواست دائر


پشتون تحفظ تحریک کے رہنما علی وزیر اور محسن داوڑ، فائل فوٹو

پشتون تحفظ تحریک سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی کےخلاف مقدمات کی سماعت بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت سے پشاور سینٹرل جیل منتقل کرنے کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کر گئی ہے، جس کی سماعت 22 جولائی کو ہو گی۔

محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت پشتون تحفظ تحریک کے لگ بھگ 12 سرکردہ رہنماؤں کے خلاف شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خڑکمر میں سیکورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کرنے کے الزام میں دہشت گردی سے متعلق دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں اور یہ تمام افراد ہری پور جیل میں قید ہیں۔

ممبران قومی اسمبلی سمیت تمام ملزمان کے خلاف مقدمات کی سماعت پہلے بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہو رہی تھی مگر اب متعلقہ عدالت یہ سماعت ہری پور جیل کے اندر کر رہی ہے۔

سینئر وکیل لطیف آفریدی کی قیادت میں وکلاء کا ایک پینل پی ٹی ایم رہنماؤں کی پیروی کر رہا ہے۔ محسن داوڑ اور علی وزریر کی ضمانت پر رہائی کے لیے پہلے ہی بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں درخواستیں دائر کرائی جا چکی ہیں، مگر ابھی تک استغاثہ نے عدالت میں ریکارڈ پیش نہیں کیا۔

طارق افغان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ استغاثہ تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے اور ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کر رہا۔ اسی بنیاد پر 22 جولائی کے بعد ضمانت پر رہائی کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی ایم کے خلاف عدالتی کارروائی قانون کے مطابق جاری ہے اور وہ اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر رہے۔

ادھر بنوں میں پشتون تحفظ تحریک کے ایک سرکردہ رہنما ندیم عسکر کے دو بھائیوں کو عدالت نے حال ہی میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ دونوں بھائیوں کو مئی کے آخر میں نقص امن عامہ کی دفعات کے تحت ایک مقامی صحافی سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم، بعد میں صحافی کو حکومت نے رہا کر دیا تھا، جب کہ پی ٹی ایم کے تین گرفتار رہنماؤں کی ضمانت پر رہائی کی درخواستیں مقامی عدالت نے مسترد کر دیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG