رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں جلسے سے قبل ’پی ٹی ایم‘ کے حامی گرفتار


پشتون تحفظ موومنٹ ’پی ٹی ایم‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ساحلی شہر کراچی میں 13 مئی کے جلسے سے قبل اس تحریک کے لگ بھگ 12 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

جب کہ دوسری جانب ’پی ٹی ایم‘ کے ایک مرکزی رہنما محسن داوڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کا کراچی کے لیے ٹکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

محسن داوڑ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ کوئی بھی ائیر لائن اُنھیں ٹکٹ نہیں دے رہی ہے۔

منظور پشتین اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر پہنچے جہاں سے اُنھیں کراچی جانا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور ’پی ٹی ایم‘ سے کہا تھا کہ وہ کسی متبادل مقام پر جلسہ کر لیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ہفتے پشتون تحفظ تحریک کے پانچ سرکردہ کارکنوں کے خلاف کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق تھانے کی حدود میں پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کے کہنے پر 100 سے 150 افراد نے کارنر میٹنگ کی جس میں نامزد ملزمان اکبر خان، وزیر محسود، منور، افتخار اور دیگر نے لوگوں سے 13 مئی کو کراچی میں ہونے والے جلسے کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے 12مئی کو کراچی میں جلسہ کرنا تھا لیکن اس روز ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی کراچی میں جلسوں کا اعلان کر رکھا تھا جس کے بعد ’پی ٹی ایم‘ اپنے جلسے کی تاریخ بدل کر یہ جلسہ 13مئی کو منعقد کرنے کا کہا تھا۔

اس سے قبل بھی پشاور اور لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں بھی رکاوٹ ڈالی گئی لیکن اس کے باوجود ’پی ٹی ایم‘ نے جلسے کیے۔

منظور پشتین اس سے قبل لاہور، سوات اور پشاور میں جلسے کر چکے ہیں جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کر کے اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کی تھی۔

ان جلسوں سے متعلق سرگرمیوں پر مختلف شہروں میں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کے خلاف مقدمات درج ہوتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG