رسائی کے لنکس

logo-print

پختونوں سے متعلق 'قابل اعتراض' الفاظ پر ناشر کی معذرت


فائل فوٹو

پنجاب کے تعلیمی اداروں کی ایک درسی کتاب میں پختونوں سے متعلق 'قابل اعتراض' الفاظ استعمال کیے جانے پر متعلقہ پبلشر (ناشر) نے عدالتی حکم کے بعد معذرت کی ہے۔

ہفتہ کو دو قومی اخبارات میں شائع کیے جانے والے اشہتار میں ناشر 'عظیم اکیڈمی' کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ گزشتہ 30 سال سے علمی خدمت جاری رکھے ہوئے ہےاور وہ ہر قسم کی فرقہ واریت اور قومی تعصبات کے خلاف ہے۔

اشتہار میں مزید کہا گیا کہ کچھ عرصہ قبل مطالعہ پاکستان کی کتاب میں پروف ریڈنگ کے دوران اغلاط کی نشاندہی ہونے پر تمام ایڈیشن تلف کر کے نیا ایڈیشن شائع کیا گیا مگر "شاید کسی شخص کے ہاتھ وہ تلف شدہ ایڈیشن لگ گیا اور شرارتاً اس کا غلطی والا حصہ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا گیا۔"

ناشر کا کہنا تھا کہ اس سے پختون بھائیوں کی دل آزاری ہوئی اس کے لیے ادارہ پختون بھائیوں سے دلی معذرت کرتا ہے۔

جمعہ کو پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے دو افراد کی طرف سے اس بارے میں دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کتاب کے ناشر کو قومی اخبارات میں اشہتار کے ذریعے معذرت کرنے کا حکم دیا تھا۔

درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا تھا کہ پنجاب کے کالجز میں پڑھائی جانے والی مطالعہ پاکستان کی کتاب کے صفحہ نمبر 47 اور 48 پر پختونوں سے متعلق قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے لہذا پنجاب حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ ان الفاظ کو فوری تبدیل کرے۔

ان الفاظ سے متعلق خبر منظر عام پر آنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں بشمول قوم پرست سیاسی جماعت عوامی نیشل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کی طرف سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG