رسائی کے لنکس

ممتاز قادری کی سزا پر عمل درآمد معطل


ممتاز قادری
ممتاز قادری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی اپیل پر عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک اُس کی سزائے موت پر عمل درآمد معطل کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔

منگل کو عدالت عالیہ میں اپیل کی ابتدائی سماعت کرتے ہوئے دو رکنی بینچ نے وفاق کو ہدایت کی کہ وہ 17 اکتوبر کو اس مقدمے میں اپنا موقف پیش کرے۔

قانونی ماہرین کے مطابق سزائے موت کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی معمول کی کارروائی ہے کیوں کہ ایسے کسی بھی مقدمے میں اپیل کی منظوری پر عدالت یہی فیصلہ سناتی ہے۔

اس مقدمے میں ممتاز قادری کا دفاع کرنے والے وکلا کی قیادت لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف کر رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں منگل کو ہونے والی سماعت کے موقع پر سینکڑوں افراد نے عدالت کے باہر ممتاز قادری کو رواں ماہ سنائی گئی سزائے موت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس کے حق میں نعرے لگائے۔

مظاہرین میں سے اکثریت کا تعلق مذہبی جماعتوں سے تھا جب کہ بیسیوں وکلا نے بھی اس احتجاج میں شرکت کی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے ممتاز قادری کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کے فیصلے کے خلاف پہلے بھی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں اور جس جج نے اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کی سماعت کی تھی اسے بھی اطلاعات کے مطابق ممتاز قادری کے حامیوں کے حامیوں کی جانب سے دھمکیاں مل چکی ہیں جس کے بعد وہ رخصت پر چلے گئے ہیں۔

پنجاب پولیس کی اسپیشل ایلیٹ فورس سے تعلق رکھنے والا ممتاز قادری صوبائی گورنر کی حفاظت پر معمور دستے میں شامل تھا اور اس نے 4 جنوری کو اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں سلمان تاثیر کو انتہائی قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

ممتاز قادری نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گورنر پنجاب کو قتل کرنے کی وجہ مقتول کی طرف سے ناموس رسالت ایکٹ میں ترمیم کی حمایت تھی۔

XS
SM
MD
LG