رسائی کے لنکس

logo-print

حملے کے بعد سیاسی و عسکری قیادت کا کوئٹہ میں اہم اجلاس


وزیراعظم کی زیر قیادت اجلاس میں جنرل راحیل شریف اور انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی شریک تھے۔

کوئٹہ میں پولیس کے ایک تربیتی مرکز پر مہلک حملے کے بعد منگل کی صبح پہلے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور اُس کے بعد وزیراعظم نواز شریف اپنی معمول کی تمام مصروفیات منسوخ کر کے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت پہنچے۔

پیر کی رات گئے پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں ساٹھ پولیس اہلکار اور فوج کا ایک کیپٹن ہلاک جب کہ لگ بھگ 120 افراد زخمی ہوئے۔

شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بعد ازاں منگل کو وزیراعظم نواز شریف کی زیر قیادت گورنر ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہو، جس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی شریک تھے۔

اجلاس میں سلامتی کی صورت حال اور سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی بڑھانے سے متعلق اقدامات پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم اور فوج کے سربراہ نے سول اسپتال میں زیر علاج زخمیوں سے بھی ملاقات کی۔

جنرل راحیل شریف نے حملہ آوروں کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے فوجی اور پولیس عہدیداروں سے ملاقات کی۔

’آئی ایس پی آر‘ کے بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے فوج کے کیپٹن روح اللہ کو تمغہ جرات جب کہ زخمی ہونے والے نائب صوبیدار محمد علی کو تمغہ بسالت دینے کا اعلان کیا۔

صوبائی عہدیداروں کے مطابق کوئٹہ میں پولیس کے جس تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، اُس کی سکیورٹی کے انتظامات مناسب نہیں تھے اور بظاہر اسی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

منگل کو پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کوئٹہ روانگی سے قبل اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ یہ سوال ضرور اٹھائیں گے کہ ’’ہم مسلسل چوکس کیوں نہیں رہتے۔‘‘

XS
SM
MD
LG