رسائی کے لنکس

logo-print

بارشوں سے ہلاکتوں میں اضافہ، سیلاب کا انتباہ


کشمیر میں دس اور پنجاب میں نو اضلاع کسی نہ کسی طرح سے ان بارشوں میں متاثر ہوئے۔ 121 گھر مکمل تباہ جب کہ 338 کو جزوی نقصان پہنچا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے جاری موسلادھار بارشوں کے باعث کم ازکم 66 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت صوبہ پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بدھ کی شام سے موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو جمعہ کو بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔

جمعہ کو دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی میں بارش کے باعث ایک مکان کی چھت گرنے سے کم ازکم تین افراد ہلاک ہو گئے جب کہ لاہور، سیالکوٹ گوجرانوالہ کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی چھتیں اور دیواریں گرنے سے متعدد افراد ہلاک ہوئے۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے "این ڈی ایم اے" کے ترجمان احمد کمال نے وائس آف امریکہ کو متاثرہ علاقوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں دس اور پنجاب میں نو اضلاع کسی نہ کسی طرح سے ان بارشوں میں متاثر ہوئے۔ 121 گھر مکمل تباہ جب کہ 338 کو جزوی نقصان پہنچا۔

شدید بارشوں کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں جب کہ متعدد مقامات پر آبی گزرگاہوں کے قریبی علاقوں سے لوگوں کو منتقل ہونے کا انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

احمد کمال کا اس بارے میں کہنا تھا کہ "انتباہ جاری ہونے کے بعد متعلقہ اداروں نے انتظامات کر لیے تھے جہاں نشیبی علاقوں سے لوگوں کو نکالنا تھا، مال مویشی کو منتقل کرنا تھا یہ سب کچھ تو اب ایسا کہیں بھی فی الوقت خطرہ نہیں کہ کہیں کوئی ڈوب جائے گا یا ڈوب جانے کا خطرہ ہو۔"

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ متاثرہ علاقوں سے اب تک 368 افراد کو ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جب کہ فوج کے اہلکار ان علاقوں میں اب بھی اپنی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

موسلادھار بارشوں کے باعث پاکستان کے مختلف دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے اور حکام نے سیلاب کے خطرے کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔

پاکستان کو 2010ء سے 2012ء تک مون سون کے موسم میں شدید سیلابوں کا سامنا رہا جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچ چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG