رسائی کے لنکس

بھارت کے دور مار میزائل تجربے پر پاکستان کی تشویش


پاکستان کے دفتر خارجہ کی عمارت

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستانی حکام نے بین الاقوامی تنظیم کے وفد کو پاکستان کی اُن کوششوں سے بھی آگاہ کیا جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

پاکستان نے بھارت کی طرف سے حال ہی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تجربہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

پاکستان نے اپنی تشویش سے میزائل ٹیکنالوجی کی برآمد کو کنٹرول کرنے والی ایک تنظیم 'ایم ٹی سی آر' کے وفد کو آگاہ کیا، جو ان دنوں پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستانی حکام نے بین الاقوامی تنظیم کے وفد کو پاکستان کی اُن کوششوں سے بھی آگاہ کیا جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی عہدیداروں نے ’ایم ٹی سی آر‘ کے وفد کو پاکستان کی طرف سے قائم کیے گئے کمانڈ اور کنٹرول کے موثر نظام کی تفصیل بتاتے ہوئے، ہتھیاروں کی برآمدات کے جامع کنٹرول کے نظام اور اس کے ساتھ ساتھ ہر سطح پر کیے گئے سکیورٹی کے موثر نظام سے بھی آگاہ کیا۔

پاکستان کی دفتر خارجہ کی ایڈیشنل سیکرٹری تسنیم اسلم نے ’ایم ٹی سی آر‘ کے وفد کو نئی دہلی کے میزائل پروگرام کے بارے میں پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

بیان کے مطابق پاکستانی عہدیدار نے عدم استحکام کا سبب بننے والے میزائل دفاعی پروگرام اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے سے علاقائی امن و استحکام کو درپیش خطرات کی طرف توجہ دلائی۔

گزشتہ ہفتے بھارت نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے اگنی فور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔

تجزیہ کار طلعت مسعود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے ایسے تجربات کے ردعمل میں پاکستان کو بھی اپنی دفاعی صلاحیت کو بہتر کرنے کے لیے اقدام اٹھانے پڑتے ہیں۔

"پاکستان کو یہ خدشہ ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی میزائل جو ہیں اس سے بھارت کی دفاعی صلاحیت اتنی بڑھ جائے گی کہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔"

طلعت مسعود نے کہا کہ اس صورت حال کی وجہ سے خطے میں اسلحے کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے تاہم ان کے بقول حالات اسی صورت بہتر ہو سکتے ہیں جب پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG