رسائی کے لنکس

خواتین میں خود کشی کی شرح میں پریشان کُن اضافہ: ماہرین


فائل

ذہنی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان غیرمعمولی حالات میں ہی اپنی زندگی کے خاتمے جیسا انتہائی قدم اٹھاتا ہے۔ خودکشی کی ایک بڑی وجہ ڈپریشن ہے ، جس کی وجہ سے انسان خود کو بے بس اور بے یار و مددگار سمجھنے لگتا ہے

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران شہری خواتین میں خود کشی کی شرح میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس میں خاص طور پر نوجوان عورتوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر، گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں لاہور میں خودکشی کرنے والے 10 افراد میں سے پانچ جوان خواتین تھیں، جن میں سے کچھ چھوٹے بچوں کی مائیں بھی تھیں۔

چھ مئی کو لاہور کے علاقے نواں کوٹ کی رہائشی 30 سالہ سکول ٹیچر نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس واقعہ کے دو دن بعد، 8 مئی کو سبزہ زار، لاہور میں دو بچوں کی ماں نے گھریلو جھگڑے پر خودکشی کرلی۔ اسی مہینے، 27 مئی کو شفیق آباد کی رضیہ بی بی نے شوہر کی بدسلوکی اور غربت سے تنگ آکر کوئی زہریلی چیز کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

رضیہ بی بی کے تین چھوٹے بچے تھے۔ شاہدرہ لاہور کی نفیسہ بی بی کے لیے 29 مئی اس کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا جب اس نے غربت سے گھبرا کر اپنی جان لے لی۔ نفیسہ ایک چھوٹے بچے کی ماں تھی۔

ذہنی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان غیرمعمولی حالات میں ہی اپنی زندگی کے خاتمے جیسا انتہائی قدم اٹھاتا ہے۔ خودکشی کی ایک بڑی وجہ ڈپریشن ہے، جس کی وجہ سے انسان خود کو بے بس اور بے یار و مددگار سمجھنے لگتا ہے۔

اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب بہتری کی کوئی امید باقی نہیں رہی، تو مایوسی میں وہ اپنی زندگی ختم کرلیتا ہے۔ ماہرین ذہنی امراض کا کہنا ہے کہ جدید سماجی ڈھانچے کی بدولت لوگوں پر دباؤ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن، معاشرے نے اس دباؤ کو ختم یا کم کرنے کے لیے مدد کا کوئی نظام نہیں بنایا۔

سماجی طور پر کوئی مدد دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خودکشی جیسا قدم اٹھاتے ہیں۔ ماہرین اس خیال سے بھی متفق نہیں ہیں کہ خودکشی کرنے والے لوگوں کی اکثریت نے غربت کی وجہ سے اپنی جان لی۔

ان کا خیال ہے کہ انتہائی مایوسی، بچپن کے حالات اور مسلسل ناکامی جیسے عوامل خودکشی کی بڑی وجوہات ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ پرانے زمانے میں خانقاہوں میں پریشان حال لوگوں کو سہارا اور مدد مل جاتی تھی۔ وہاں لوگ ان کے دکھ اور پریشانی سنتے تھے، جس سے انہیں حوصلہ ملتا تھا۔ لیکن، آج کے دور میں کسی سماجی مدد کے نظام کی غیرموجودگی، لوگوں میں مایوسی پیدا کر رہی ہے۔

خواتین میں خودکشی کی وجوہات پر تبصرہ کرتے ہوئے، کنسلٹنٹ سائیکالوجسٹ صبا شیخ نے کہا ہے کہ خواتین میں خودکشی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ شادی کا فیصلہ کرتے ہوئے لڑکے اور لڑکی کی ذہنی اور تعلیمی مطابقت کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ والدین اندھا دھند رشتے طے کر دیتے ہیں، کیونکہ انہیں اچھا رشتہ ہاتھ سے نکلنے کا خوف ہوتا ہے۔

لیکن، بعد کے حالات میں جب لڑکی اور لڑکے کو پتہ چلتا ہے کہ ان کی اپنے ساتھی کے ساتھ ذہنی مطابقت نہیں ہے تو وہ مایوس ہو کر انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔ میاں بیوی کے سماجی پس منظر، تعلیم، عمر اور سوچ میں فرق نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں کو بھی خودکشی پر مائل کردینے والے عوامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG