رسائی کے لنکس

logo-print

سرحد پار افغانستان سے راکٹ باری پر پاکستان کا اظہار تشویش


دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں دونوں پڑوسی ممالک کے مابین پرامن بقائے باہمی کے مشترکہ اہداف کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

پاکستان نے سرحد پار افغان علاقے سے گولہ باری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر افغانستان کی حکومت کو اپنی گہری تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

منگل کو دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق گزشتہ اتوار کو قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں انگوراڈہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر افغانستان سے پانچ راکٹ داغے گئے۔

اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن بیان کے مطابق صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے فوجی حکام نے فوری طور پر افغان حکام سے رابطہ کیا۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں دونوں پڑوسی ممالک کے مابین پرامن بقائے باہمی کے مشترکہ اہداف کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ اس قسم کی کارروائیاں روکنے کے لیے مناسب اقدام کرے۔

اس واقعے اور پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان پر تاحال افغانستان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان نے افغان علاقے سے اپنے ہاں راکٹ داغے جانے کا معاملہ اٹھایا ہو۔ گزشتہ ماہ پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ انگور اڈہ کے علاقے میں ہی سرحد پار سے راکٹ گرنے سے اس کے کم از کم سات اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان ایسے واقعات پر افغانستان سے احتجاج بھی کرتا رہا ہے لیکن اس بار اس نے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروانے کی بجائے کابل کو صرف اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار طلعت وزارت کے نزدیک اس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان صورتحال کو کسی سنگینی کا شکار نہیں ہونے دینا چاہتا۔

"ایسے واقعات پر زیادہ سخت بیان سامنے آنا چاہیے تھا لیکن میرا خیال ہے کہ پاکستان (واقعے پر زیادہ سخت ردعمل کا اظہار نہ کر کے) تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ ایسے واقعات کو بالکل نظر انداز نہ کیا جائے اور نہ ہی سخت موقف اختیار کیا جائے۔"

دونوں ملکوں کی طرف سے ماضی میں بھی ایک دوسرے پر سرحد پار سے گولہ باری اور فائرنگ کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے کے دعوؤں کو مسترد بھی کرتے رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کا یہ سرحدی علاقہ دشوار گزار پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے اور شدت پسندوں اکثر سرحد کے آر پار نقل و حرکت کے لیے انھیں استعمال کرتے ہیں۔

گزشتہ سال جون میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد سے پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ اسے سرحد پر افغانستان کی طرف سے درکار تعاون حاصل نہیں ہو رہا۔

اسلام آباد چاہتا ہے کہ کابل اپنی طرف سرحد پر نگرانی کو موثر بنائے تاکہ فوجی کارروائیوں سے فرار ہونے والے شدت پسند افغانستان میں داخل نہ ہو سکیں۔

XS
SM
MD
LG