رسائی کے لنکس

logo-print

'افسانے اور حقیقت کا فرق دکھائیں گے'، خواجہ آصف کا ٹرمپ کے ٹوئٹ کا جواب


پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو گذشتہ سولہ سالوں میں القاعدہ کے خلاف آپریشن کے لیے اپنی سرزمین، فضائی حدود اور ائیر بیسز دیے لیکن اس کے بدلے میں پاکستان کو امریکہ سے صرف بداعتمادی ملی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے منگل کے روز کابینہ کا اہم اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس میں امکان ہے کہ اس معاملہ کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور امریکی صدر ٹرمپ کے نئے بیان کا جواب دینے کے معاملے پر غور کیا گیا۔

خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ امریکی صدر کے ٹویٹ کا جلد جواب دیں گے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کو سچائی بتائیں گے اور افسانے اور حقیقت کا فرق دکھائیں گے۔

ادھر دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق امریکی صدر کے پاکستان کے خلاف ٹویٹ کا معاملہ ابھی دفترخارجہ میں زیر غور ہے اور پاکستان نے امریکی صدر کے ٹویٹ پر ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے اعلیٰ حکومتی احکامات اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیرِ دفاع خرم دستگیر نے اپنے جاری ہونے والے بیان میں کہا کہ پاکستان نے امریکہ کو گذشتہ سولہ سالوں میں القاعدہ کے خلاف آپریشن کے لیے اپنی سرزمین، فضائی حدود اور ائیر بیسز دیے لیکن اس کے بدلے میں پاکستان کو امریکہ سے صرف بداعتمادی ملی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سرحد کے پار افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نظر انداز کر رہا ہے جہاں سے پاکستانیوں کو قتل کیا جارہا ہے۔

حکومتی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے ارکان نے بھی اس معاملہ پر ردعمل دینا شروع کر دیا ہے۔ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بیان امریکہ کی قومی سوچ اور اس کی صدارتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ دوستی نبھانا تو دور کی بات امریکی دوستی کی عدت کے دن بھی پورے نہیں کرتے۔

پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری نے ردِعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں چلنے والی تمام امریکی این جی اوز فوری طور پر بند کردی جائیں۔ انہوں نےپاکستان اور امریکہ میں سفارتی عملے کی تعداد برابر کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ڈالرز اپنے پاس رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت امریکہ کو فراہم کردہ معاونت کے حوالے سے پارلیمان کی قرارداد پر عمل کرے۔ "دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد امریکہ افغانستان میں کیا معرکے سر انجام دیتا ہے۔ پاکستان ملک میں موجود امریکیوں کی تعداد کا جائزہ لے اور امریکہ میں پاکستانی سفارتی عملے سے زائد امریکیوں کو واپس بھجوایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی این جی اوز کا بوریا بستر بھی پاکستان سے گول کیا جائے۔امریکہ پاکستان کی بہت توہین کرچکا ہے، مزید بے عزتی کسی صورت گوارا نہیں کریں گے۔"

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے نئی افغان پالیسی میں پاکستان کے کردار پر تنقید کے بعد سے امریکی محکمہء خارجہ اور دفاع کے اہلکار بھی پاکستان میں حقانی گروپ کو حاصل مبینہ محفوظ ٹھکانوں پر تنقید کرتے آئے ہیں جس کی پاکستان تردید کرتا ہے۔

درایں اثناء پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو آج دفتر خارجہ طلب کر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG