رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اقدام پر پاکستانی وزیر کا اظہار افسوس


وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ ’’میرا ذاتی یہ خیال ہے کہ اس اقدام سے دہشت گردوں کا کچھ نہیں بگڑے گا، لیکن دہشت گردی کے شکار افراد کے لیے بہت سی مشکلات بڑھیں گی۔‘‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے پناہ گزینوں اور مسلمان اکثریت والے سات ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے بارے پاکستان میں مختلف حلقے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اگرچہ پاکستان اُن ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے جن کے شہریوں کے امریکہ سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن اس خدشے کا اظہار کیا جا رہے کہ پاکستان کا نام بھی اُس فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پیر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس اقدام سے اُن کے بقول دہشت گردوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

’’میرا ذاتی یہ خیال ہے کہ اس اقدام سے دہشت گردوں کا کچھ نہیں بگڑے گا، لیکن دہشت گردی کے شکار افراد کے لیے بہت سی مشکلات بڑھیں گی۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ اس اقدام سے دہشت گردی کے خلاف عالمی اتفاق رائے بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

’’مجھے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے جو عالمی اتحاد اور اتفاق ہے اُس کو نقصان پہنچے گا۔‘‘

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہامریکہ میں داخلے سے متعلق انتظامی حکم نامے کا تعلق کسی مذہب کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ’’دہشت گردی‘‘ کو روکنے اور امریکہ کو محفوظ بنانے سے ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دنیا کے 40 سے زائد مسلمان ممالک انتظامی حکم نامے سے متاثر نہیں ہوئے۔

انتظامی حکم نامے کے تحت ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کے امریکہ آنے پر 90 دن کی پابندی عائد کی گئی، جب کہ امریکہ میں پناہ گزینوں کے داخلے پر 120 روز کی پابندی ہو گی۔

صدر ٹرمپ کی انتخابات میں کامیابی اور منصب صدارت سنھبالنے کے بعد پاکستان کی حکومت کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات میں نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اُمور پر مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔

امیگریشن سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے حکم نامے کے بارے میں پاکستان کے عام شہری بھی تذبذب کا شکار ہے۔

بین الاقوامی اُمور کے بارے میں ’پی ایچ ڈی‘ کی طالبہ ارم مظہر کہتی ہیں کہ اُن کے بیٹے اور خاندان کے بعض دیگر افراد امریکہ میں ہیں اور اُنھیں اس نئی پالیسی کے بارے میں سن کا کافی پریشانی ہوئی ہے۔

’’ہم تو یہ اُمید کرتے ہیں (امریکہ) کے دروازے اور سرحدیں پوری دنیا کے لیے بند نہیں ہونی چاہیئے۔ وہ ایک کھلا معاشرہ اور کھلا ملک ہے اور کی سرحدیں بھی کھلی رہنی چاہیئے۔‘‘

وفاقی دارالحکومت میں قائم قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ برائے بین الاقوامی تعلقات ’انٹرنیشنل ریلیشنز‘ کے سربراہ ڈاکٹر نذیر حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کی یہ پہچان رہی ہے کہ اُس نے دنیا بھر سے آنے والوں کے لیے اپنے دروازے کھولے ہیں لیکن اُن کے بقول حالیہ پالیسی اُن روایات سے مطابقت نہیں رکھتی۔

’’امریکہ کی تعمیر میں تارکین وطن (امیگرینٹس) کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ اس وقت دنیا سکڑ رہی ہے، گلوبلائزیشن کی طرف ہم جا رہے ہیں۔۔۔ پاکستانیوں کے بہت سے رشتہ دار ہیں وہاں پر۔۔۔ لوگوں کے کاروباری تعلقات ہیں اور کئی سہولتیں ہیں۔‘‘

ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امیگریشن سے متعلق انتظامی حکم نامہ خود امریکہ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

’’امریکہ کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جب سے یہ ملک بنا وہاں تارکین وطن آ رہے ہیں۔۔۔ امریکہ کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ اُن کے ملک میں انسانی حقوق، انسانیت کا تحفظ پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔۔۔۔ تو میرے خیال میں یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ اُس روایت کو نئے دور میں کیسے قائم رکھا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ ایک روز قبل پاکستان میں حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران نے ایک جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانیوں کے لیے بھی ویزے پر پابندی لگا دیں۔

اُنھوں پاکستانی نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ جانے کے بارے میں سوچنے کی بجائے اپنے ہی ملک میں رہ کر یہاں کی تعمیر و ترقی پر توجہ دیں۔

عمران خان کے اس بیان پر پیر کو وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں معاشی ترقی کی وجہ سے دنیا پاکستانیوں کے لیے دروازے کھول رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG