رسائی کے لنکس

logo-print

فاٹا انضمام سے متعلق افغانستان کے تحفظات مسترد


پاکستان نے ملک کے قبائلی علاقے فاٹا کے صوبہ خبیر پختونخوا میں انضمام کے لیے حال ہی پارلیمان سے منظور ہونے والے بل پر کابل کے تحفظات کو مسترد کر دیا ہے۔

دو روز قبل ہی پاکستان کی پارلیمان نے وفاق کے زیر انتظام ملک کے قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام کے لیے ایک آئینی ترمیمی منظور کی تھی۔

ہفتہ کو افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان کے فیصلے کو برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان 1921 میں طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ۔

فیس بک پر جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پارلیمان نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب فوج قبائلی علاقوں میں موجو د ہے۔

بیان کہا گیا ہے کہ " قبائلی علاقو ں سے متعلق کسی بھی قسم کا فیصلہ لوگوں کےاتفاق رائے کے ساتھ اس وقت ہونا چاہیے جب وہاں حالات معمول کے مطابق ہوں۔ "

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ٹوئٹر پر جاری ایک مختصر بیان میں افغانستان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان کا فیصلہ عوام کی رائے کا مظہر ہے۔

انہو ں نے کہا کہ "افغانستان کو نہایت احتیاط کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں عدم مداخلت کے اصولوں پر کار بند رہنے کی ضرورت ہے۔"

پاکستان کے بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ فاٹا کے خبیر پختونخواہ میں انضمام سے متعلق کابل کے تحفظات افغان صدر اشرف غنی کی اپنی رائے ہو سکتی ہے لیکن ان کے بقول فاٹا کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے اقدام سے افغانستان پر بھی اچھے اثرات مرتب ہو ں گے۔

نیشل عوامی پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر زاہد خان کا کہنا ہے کہ فاٹا کو ملک کے مرکزی دھارے میں لانے سے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

" اس وقت فاٹا کو نقصان ہورہا ہے اور جب فاٹا کا انضمام ہوتا ہے تو اس کا فائدہ افغانستان کو بھی ہو گا کیونکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں جو ماضی میں تھیں وہ اس کے بعد یہ پناہ گاہیں نہیں بن سکیں گی کیونکہ اس علاقے پر صوبائی حکومت کی عمل داری ہو جائے گی ۔ "

پاکستان اور کابل کے درمیان فاٹا کے معاملے پر بیان کا تبادلہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب اتوار کو ہی افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے پاکستانی میں اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

افغان وفد نے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کی جس کے بارے ایک مختصر بیان میں بتایا گیادوطرفہ امور، سلامتی کی صورتحال اور بارڈر مینیجمنٹ پر تبادلہ خیال کے علاوہ افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی پر بھی بات چیت ہوئی۔
افغان وفد میں افغانستان کے انٹیلی جنس ادارے ’این ڈی ایس‘ کے سربراہ معصوم ستنکزئی اور افغان وزیرِ داخلہ واعظ برمک اور افغان فوج کے سربراہ شریف یفتالی بھی شامل ہیں۔ اس وفد نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کرنی ہے۔

حالیہ مہینوں سے اسلام اور کابل کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے جاری ہیں جسے مبصرین دونوں ملکوں کے باہمی اعتماد اور تعلقات کی بہتری کے لیے خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG