رسائی کے لنکس

امریکی رپورٹ میں پاکستان کی عدلیہ سمیت دیگر اداروں پر نکتہ چینی، دفتر خارجہ نے رپورٹ مسترد کردی


فائل فوٹو

امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عام طور پر شفافیت اور مؤثر پالیسیوں اور قوانین کا فقدان ہے۔ اسی رپورٹ میں پاکستان کے عدالتی نظام اور دیگر معاملات پر نکتہ چینی بھی کی گئی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے پاکستان کے عدالتی نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نظریاتی طور پر پاکستان کا عدالتی نظام ایگزیکٹو کے دائرہ اثر سے نکل کر، آزادانہ طور پر کام کرتا ہے لیکن رپورٹ کے مطابق حقیقت مختلف ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق کسی عدالت کی کمزوریوں کے بارے میں بات کرنے سے عوام کو توہین عدالت کا قانون روکتا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی محکمۂ خارجہ کی مذکورہ رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور ملک کے عدالتی نظام سے متعلق ریمارکس پر کہا ہے کہ ملک میں عدلیہ مکمل آزاد ہے، فیصلے بروقت کیے جاتے ہیں اور پاکستان کے عدالتی نظام کی اہلیت و قابلیت قابلِ بھروسہ ہے۔

یاد رہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے ہر سال دنیا بھر کے مختلف ممالک میں سرمایہ کاری کے ماحول کے حوالے سے رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔ رپورٹ میں اس ملک میں نظام انصاف سمیت سرمایہ کاری کے حوالے سے سہولیات اور اس میں شامل مختلف اداروں کے بارے میں رپورٹ دی جاتی ہے۔

رواں برس جاری ہونے والی 'انویسٹمنٹ کلائمٹ اسٹیٹمنٹ 2021' نامی رپورٹ میں پاکستان کے مختلف محکموں سے متعلق ذکر شامل ہے۔ رپورٹ میں ریگولیٹری اداروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تمام کاروباری اداروں پر یہ لازم ہے کہ وہ مخصوص ریگولیٹری قواعد پر عمل پیرا ہوں جو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِ انتظام ہیں جب کہ حکومتِ پاکستان قانونی قواعد و ضوابط کے قیام اور نفاذ کی ذمہ دار ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں کوئی مرکزی آن لائن فورم موجود نہیں جہاں کلیدی ریگولیٹری کارروائیوں کو شائع کیا گیا ہو۔ مختلف ریگولیٹرز اپنی ویب سائٹ پر اپنے قواعد و ضوابط اور ان پر عمل درآمد شائع کرتے ہیں۔ تاہم زیادہ تر معاملات میں ریگولیٹری قواعد نافذ کرنے والے اقدامات آن لائن شائع نہیں ہوتے۔

سن 2010 میں پاکستان کے آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد غیر ملکی کمپنیوں کو وفاقی قانون کے علاوہ صوبائی اور بعض اوقات مقامی قوانین کی بھی تعمیل کرنا پڑتی ہے۔ تاہم غیر ملکی کاروبار مختلف ریگولیٹری حکام سے قوانین اور پالیسیوں کے اطلاق سے متعلق پائے جانے والے تضادات کے بارے میں شکایت کرتے ہیں۔ تاہم ایسے کوئی قواعد و ضوابط موجود نہیں جو خصوصی طور پر امریکی فرموں یا سرمایہ کاروں کے ساتھ امتیازی سلوک پر انہیں تحفظ فراہم کرسکیں۔

پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) مرکزی ریگولیٹری ادارہ ہے جو پاکستان میں کمپنیوں کے لیے اکاؤنٹنگ معیارات قائم کرنے کا مجاز ہے تاہم ان معیارات پر عمل درآمد ناقص ہے۔

پاکستان میں کمپنی کے مالی معاملات اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، سوشل ویلفیئر یا ملازم اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے ذریعے بھی ریگولیٹ ہوتے ہیں۔ اسی طرح توانائی کے شعبے میں تمام معاملات نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی جیسے اداروں کے زیر انتظام ہوتے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ (اے ای ڈی بی) سمیت ہر ادارے کا آزادانہ نظم و نسق ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ساؤتھ ایشین ریجنل کوآپریشن (سارک)، وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون (CAREC) اور اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کا رکن ہے۔ تاہم ریگولیٹری ترقی یا اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے درمیان کوئی علاقائی تعاون نہیں ہے۔

قانونی نظام اور عدالتی آزادی

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تجارتی معاملات سمیت ریگولیٹری نظام میں شامل بیشتر بین الاقوامی قواعد اور معیار برطانوی قانون سے متاثر ہیں۔ گھریلو یا ذاتی معاملات کو چلانے والے قوانین اسلامی شریعت کے قانون سے سختی سے متاثر ہیں۔

پاکستان کی عدلیہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے متاثر ہے۔ ماتحت عدالتیں اعلیٰ انتظامی حکام سے متاثر ہیں اور اسے قابلیت اور انصاف پسندی کی کمی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا قانونی ضابطہ اخلاق اور معاشی پالیسی غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتا لیکن کمزور عدلیہ کی وجہ سے معاہدوں کا نفاذ مسئلہ بنتا ہے۔

پاکستان میں کرپشن کے خلاف اقدامات

امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی 2020 کی کرپشن کے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان 124ویں نمبر پر ہے اور چوں کہ یہاں سزاؤں پر عمل درآمد اور احتساب کا فقدان ہے لہٰذا کرپشن کے مسائل بدستور موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ضابطہ قانون کے تحت رشوت ایک جرم ہے جس کی سزا مقرر ہے لیکن اس کے باوجود حکومت میں ہر سطح پر رشوت کا چلن موجود ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کو اچھی ساکھ کا حامل سمجھا جاتا ہے لیکن نچلی عدالتیں کرپٹ، نا اہل اور امیر، مذہبی، سیاسی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی شخصیات کے دباؤ میں آ جاتی ہیں۔

تفتیشی اداروں کا معیار

امریکی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے قائم ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) کی فنڈنگ بھی کم ہے اور ادارے میں پیشہ ورانہ قابلیت بھی نہیں. اپوزیشن جماعتیں اس ادارے کو سیاسی لحاظ سے متعصب اور حکومتی احتساب کا ایک آلہ سمجھتی ہیں۔ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے کاروباری شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔

پاکستان میں سیکیورٹی صورتِ حال

امریکی محکمۂ خارجہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے لیکن پاکستان میں موجود مقامی دہشت گرد گروپ امریکی شہریوں اور مفادات کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔

دہشت گرد گروپ وقتاً فوقتاً دہشت گرد حملے کرتے رہتے ہیں لیکن گزشتہ ایک دہائی میں ان میں مرحلہ وار کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ماضی میں دہشت گرد مارکیٹس، ایئرپورٹس، اسکولز، اسپتالوں، مساجد، یونیورسٹیز، سیاحتی مقامات اور فوجی مقامات پر حملے کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں کئی غیر ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے تحفظ اور دفاع کے لیے پرائیویٹ سیکیورٹی کا انتظام کرتی ہیں۔

بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند پاکستان فوج، چینی شہریوں اور سی پیک کی تنصیبات پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ بڑے شہروں بالخصوص اسلام آباد شہر ایسا ہے جہاں پر کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوری رسپانس دیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں لیبر قوانین

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پاکستان میں مزدوروں کے لیے موجود قواعد بہت عجیب ہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد مزدوروں کے حقوق صوبائی معاملہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق بین الاقوامی معیار کم از کم 165 ڈالر ماہانہ تنخواہ ہے لیکن اسلام آباد شہر میں یہ رقم 110 ڈالر اور سندھ میں 105 ڈالر ہے۔ جب کہ پاکستان کے اپنے اداروں کے مطابق کم سے کم ضروریات زندگی کے لیے 200 ڈالر ماہانہ کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں پائی جانے والی زیادہ تر ورکس فورس مکمل طور پر سکلڈ نہیں ہے۔

امریکی رپورٹ پر پاکستان کا ردِ عمل

پاکستان نے امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی رپورٹ میں الزامات کو حقائق کے برعکس اور گمراہ کن طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق حکومتِ پاکستان ریاست کی ایگزیکٹو، مقننہ اور عدلیہ کے مابین اختیارات کی علیحدگی پر یقین رکھتی ہے۔ لہذا پاکستان کی عدلیہ پر کسی قسم کے جبر یا دباؤ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی رپورٹ میں بے بنیاد دعوے پاکستانی عدالتوں کے لاتعداد فیصلوں کے منافی ہیں، رپورٹ میں پاکستان کے ریگولیٹری نظام میں مبینہ کوتاہیوں کے حوالے سے قیاس آرائی کی گئی ہے اور ناقابلِ تصدیق ذرائع سے اپنے نتائج اخذ کیے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ امریکہ سمیت عالمی برادری کے ساتھ معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون حکومت پاکستان کی اہم ترجیح ہے جب کہ ہم پاکستان کی جغرافیائی و معاشی صلاحیت کو بہتر طور پر محسوس کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG