رسائی کے لنکس

logo-print

عارضی کیمپوں میں مقیم متاثرین کی مشکلات


متاثرین کے لیے قائم عارضی کیمپ

صوبہ خیبر پختون خواہ میں سیلاب زدگان کے لیے پشاور کے 71 اسکولوں میں عارضی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں لگ بھگ سات ہزارمتاثرین قیام پزیر ہیں اور ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

متاثرین کے لیے قائم ان عارضی قیام گاہوں کے منتظم منیر محمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ متاثرہ رہائشی علاقوں میں پانی کی سطح کم ہونے کے بعد آٹھ سو لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے ہیں ۔ لیکن بارشوں کے نئے سلسلے کے باعث اب یہ عمل رک گیا ہے ۔

پشاور کے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر ون میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے قائم کیمپ میں موجودافراد نے وی او اے کو بتایاکہ اُن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور اب اُنھیں خدشہ ہے کہ جب یہ اسکول موسم گرما کی تعطیلات کے بعد دوبارہ کھل جائیں گے تو ”پھر کیاہوگا“۔

سیلاب سے متاثرہ خاندانوں نے خاص طور پر اپنے بچوں کے لیے دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت کی شکایت کی اور کہا کہ حکومت کی بھرپور مدد کے بغیر وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکیں گے۔

صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت ہزاروں کی تعداد میں متاثرین کی ہرممکن مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی اس اچانک تباہی سے نمٹنا اور متاثر ہ خاندانوں کو ادویات ودیگر سہولیات کی فوری فراہمی صوبائی حکومت اپنے طور نہیں کر سکتی ۔

صوبے میں سرکاری اسکولوں اور عمارتوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے عارضی کیمپ بنائے گئے ہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں بارشوں اور سیلاب سے 1500افراد ہلاک اور لاکھوں متاثر ہوئے۔ صوبے کے بیشتر علاقوں بشمول سوات میں درجنوں پل سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور ان علاقوں تک ہیلی کاپٹروں کی مدد سے خوراک فراہم کی جارہی ہے لیکن جمعہ کو شروع ہونے والی بارشوں کے اس نئے سلسلے سے یہ عمل عارضی طور پر تعطل کا شکار ہو گیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG