رسائی کے لنکس

logo-print

’پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور پیسفک گروپ کی سفارشات پر عمل درآمد کرنا ہوگا‘


وزیر اقتصادی امور، حماد اظہر (فائل)

پاکستان کا کہنا ہے کہ انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے 27 نکات پر عملدرآمد کرنے کے ساتھ ایشیا پیسفک گروپ کی سفارشات پر بھی عمل درآمد کرنا ہوگا۔

وزیر اقتصادی اُمور حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسفک گروپ کے پلان پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے تک پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہ سکتا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر اقتصادی اُمور نے بتایا کہ انسدادِ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کرنے والے علاقائی گروپ ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان کو 40 نکات پر مشتمل سفارشات پر مبنی ایکشن پلان دیا ہے؛ جس میں سے 9 پر مکمل طور پر عملدرآمد اور باقی پر کام جاری ہے۔

ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان کو ان سفارشات پر مکمل عمل درآمد کرنے کے لیے اکتوبر 2020 تک کی مہلت دی ہے۔

وزیر اقتصادی اُمور نے بتایا کہ اگر پاکستان اکتوبر 2020 تک سفارشات مکمل نہیں کرتا تو پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور ایکشن پلان ملنے کا امکان ہے، جس کی مدت ایک سے تین سال ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ فروری 2018 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ کیا تھا، جس کے بعد انسدادِ منی لانڈرنگ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، بینکاری نظام میں اصلاحات سمیت پاکستان کو 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان دیا گیا تھا۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 22 نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے۔

اس وقت پاکستان ایکساتھ دو ایکشن پلان پر عمل کر رہا ہے۔ ایف اےٹی ایف کا 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان ہے، جبکہ 40 نکات پر مشتمل ایشیا پیسفک گروپ کی سفارشات ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے اکتوبر 2019 میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو آئندہ فروری تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ کیا ہے؟

ایشیا پیسفک گروپ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا ذیلی گروپ ہے۔ علاقائی ممالک پر مبنی اس گروپ کی زیادہ توجہ انسدادِ منی لانڈرنگ، کرنسی کی غیر قانونی نقل و حمل روکنے پر ہے، جبکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا فوکس دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا ہے۔

پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا رکن نہیں ہے۔ لیکن، پاکستان ایشیا پیسفک گروپ کا رکن ہے اور پاکستان اپنی تمام رپورٹس ایشیا پسفک گروپ کے ذریعے ایف اے ٹی ایف میں جمع کرواتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد ایشیا پیسفک گروپ اپنی جائزہ رپورٹ مرتب کرتا ہے اور رپورٹ ایف اے ٹی ایف کو جمع کروائی جاتی ہے۔

فروری 2020 کے اجلاس لیے پاکستان ایشیا پیسفک گروپ کے ایکشن پلان پر اپنی رپورٹ آئندہ ماہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں جمع کروائے گا۔ ایشیا پسفک گروپ پاکستان کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کو اپنا فیڈ بیک دے گا اور اسلام آباد کی جانب سے جواب جمع کروانے کے بعد یہ جائزہ رپورٹ جنوری 2020 کے آخر میں ایف اے ٹی ایف کو جمع کروائی جائے گی۔

فروری میں پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں رپورٹ کی روشنی میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور گرے لسٹ نکالنے یا بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اقتصادی اُمور کے وزیر حماد اظہر نے اراکینِ قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان کو امید ہے کہ وہ فروری 2020 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آ جائے گا۔ لیکن، انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایشیا پسفک گروپ کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ڈیڈ لائن اکتوبر 2020 ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان انہی ’تکنیکی وجوہ‘ کی بنا پر فروری 2020 کے بعد بھی گرے لسٹ میں رہ سکتا ہے۔


ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں کیا ہو سکتا ہے؟


ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو فروری 2020 تک مزید وقت دیا ہے۔ اقتصادی اُمور کے صحافی شہباز رانا کے مطابق، فی الوقت پاکستان کے لیے فروری تک ایشیا پیسفک گروپ کی تمام سفارشات پر عمل درآمد کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے تین طرح کے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں:


1۔ پاکستان کی کارکردگی کو دیکھتے ایف اے ٹی ایف اکتوبر 2020 تک پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دے۔
2۔ پاکستان کو مزید چھ ماہ کے لیے گرے لسٹ میں رہنے دیا جائے۔
3۔ پاکستان کے معاملے کو اکتوبر 2020 تک موخر کر دیا جائے۔

نیشنل ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ کا قیام

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ کی سفارشارت پر عمل درآمد کے لیے نیشیل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سیکریٹریٹ کے قیام کی منظوری دی ہے۔

یہ سیکرٹیریٹ وزارتِ اقتصادی اُمور ڈویژن کے زیر نگرانی کام کرے گا، جس کا مقصد انسدادِ منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ روکنے کے تمام اداروں اور صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔


پاکستان کے لیے ایف اے ٹی ایف کا سخت رویہ


وزیر اقتصادی اُمور حماد اظہر نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ پاکستان کو ایف ٹی ایف میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کئی ممالک کو ایکشن پلان پر 80 فیصد عمل درآمد کرنے پر گرے لسٹ سے نکال دیا گیا۔ لیکن، پاکستان پر دباؤ ہے کہ وہ ایکشن پلان پر مکمل عمل کرے۔

حماد اظہر نے واضح کیا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کا جائزہ سختی سے لے رہا ہے؛ اور اس کا اندازہ اس سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں جبکہ افغانستان گرے لسٹ میں نہیں۔

اقتصادی مبصرین کے خیال میں ایف اے ٹی ایف کو امریکہ اور بھارت سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جبکہ چین کا کہنا ہے کہ وہ ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG