رسائی کے لنکس

logo-print

انسانی حقوق کی معروف کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں


عاصمہ جہانگیر (فائل فوٹو)

عاصمہ جہانگیر پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر تھیں جب کہ انسانی حقوق خاص طور پر حقوق نسواں کے لیے وہ ایک بلند آہنگ کارکن تھیں۔

انسانی حقوق کی معروف سرگرم کارکن اور سینیئر قانون دان عاصمہ جہانگیر اتوار کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 66 برس تھی۔

سینے میں تکلیف کے باعث انھیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں اور انتقال کر گئیں۔

عاصمہ جہانگیر پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر تھیں جب کہ انسانی حقوق خاص طور پر حقوق نسواں کے لیے وہ ایک بلند آہنگ کارکن تھیں جن کی خدمات کو ملکی و غیر ملکی سطح پر سراہا جاتا رہا ہے۔

ان کے انتقال کی خبر آتے ہی ملک بھر کے سیاسی و سماجی اور قانون دان حلقوں کی طرف سے گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا۔

عاصمہ جہانگیر کا شمار ملک کے موقر غیر سرکاری ادارے 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' کے بانی اراکین میں ہوتا تھا۔

کمیشن کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عاصمہ جہانگیر کے انتقال کو ملک میں انسانی حقوق کی تحریک کے لیے ایک گہرا دھچکہ قرار دیا۔

"انھوں نے 1984ء میں بنیاد رکھی تھی ایچ آر سی پی کی کچھ دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر اور ان کی وجہ سے ہی یہ کمیشن اتنا فعال تھا اور ان کے نام سے جانا جاتا تھا نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر بھی۔ افسوسناک واقعہ ہے اور اس سے پاکستان میں انسانی حقوق کی تحریک کو بہت نقصان پہنچے گا۔"

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے بھی عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

جنوری 1952ء میں لاہور میں پیدا ہونے والی عاصمہ جہانگیر نے کنیئرڈ کالج سے گریجوایشن کے بعد 1978ء میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

بطور وکیل 1980ء میں اپنے فرائض انجام دینے والی عاصمہ جہانگیر بعد ازاں سپریم کورٹ میں بھی بطور وکیل پیش ہونا شروع ہوئیں۔ لیکن ساتھ ہی اس دور میں فوجی صدر جنرل ضیاالحق کی آمریت کے خلاف ہونے والی تحریکوں میں بھی پیش پیش رہیں۔

اسی دور میں انھیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔

عاصمہ جہانگیر کی خدمات کے اعتراف میں ریاست پاکستان نے انھیں ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا تھا جب کہ انھوں نے کئی ایک معروف بین الاقوامی ایوارڈز بھی حاصل کر رکھے تھے۔

انھوں نے پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کی تدفین 13 فروری کو ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG