رسائی کے لنکس

پاکستان نے 22 روز بعد افغانستان کے ساتھ چمن کے مقام پر اپنی سرحد کو دوبارہ کھول دیا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں سرحدی علاقے میں افغان فورسز کی مہلک فائرنگ و گولہ باری کے بعد پاکستان نے اس سرحدی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا جس سے ہر طرح کی دوطرفہ نقل و حمل معطل ہو کر رہ گئی تھی۔

ہفتہ کو پاکستانی فوج کے شعبہ تلعقات عامہ "آئی ایس پی آر" نے ایک بیان میں کہا کہ سرحد کھولنے کا فیصلہ ماہ رمضان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان حکام کی درخواست پر کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ سرحد پر فائربندی کی مکمل پاسداری کی جائے گی اور پاکستان کسی بھی طرح کی خلاف ورزی کو قبول نہیں کرے گا۔

فوج کے بقول پاکستان اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ کلی لقمان اور کلی جہانگیر نامی دیہات پاکستانی سرحد کے اندر واقع ہیں۔

پانچ مئی کو چمن کے قریب واقع ان دو دیہاتوں میں سرحد پار افغانستان سے فورسز کی فائرنگ و گولہ باری سے خواتین سمیت نو شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

افغان حکام کا موقف تھا کہ انھوں نے مردم شماری کرنے والے پاکستانی کارکنوں کو ان علاقوں سے دور رہنے کا کہا تھا لیکن ایسا نہ ہوا جس پر انھوں نے فائرنگ کی۔

تاہم پاکستان کا دعویٰ ہے کہ مردم شماری کی ٹیم پاکستانی علاقے میں ہی تھی۔

ہفتہ کو اپنے بیان میں پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں مردم شماری کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں لیکن رواں برس اس تناؤ میں متعدد بار اضافہ دیکھا گیا ہے اور اسی بنا پر دو اہم سرحدی گزرگاہیں کئی ہفتوں تک بند بھی رہیں۔

فروری میں پاکستان نے طورخم پر اپنی سرحد کو تقریباً ایک ماہ سے زائد عرصے تک بند رکھا تھا۔

دریں اثناء پاکستان کے جنوب مغرب میں ایران کے ساتھ سرحد پر ایرانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

حکام کے مطابق ضلع پنجگور میں ہفتہ کی صبح ایرانی سکیورٹی فورسز نے ایران سے غیر قانونی طریقے سے تیل لانے والی گاڑیوں پر فائرنگ کی جس سے ایک گاڑی میں دھماکا ہوا اور اس کا ڈرائیور ہلاک ہو گیا۔

پاکستانی حکام نے اس واقعے پر ایرانی حکام سے احتجاج بھی کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG