رسائی کے لنکس

logo-print

حجاج کی تعداد سے متعلق ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، وزیرِ مذہبی امور کی وضاحت


وفاقی وزیر مذہبی اُمور نور الحق قادری (فائل فوٹو)

پاکستان کے وفاقی وزیرِ مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے سعودی عرب نے حج کے لیے عازمین کی تعداد سے متعلق ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ میڈیا میں تعداد سے متعلق زیرِ گردش خبریں سعودی وزارتِ صحت کی سفارشات ہیں۔

وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے اتوار کی شام پیرنورالحق قادری کا ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا گیا ہے جس میں وزیرِ مذہبی امور نے کہا ہے کہ ان کی سعودی وزیرِ حج و عمرہ سے بات ہوئی ہے۔

ان کے بقول میڈیا میں حجاج کی تعداد سے متعلق زیرِ گردش خبریں سعودی وزارتِ صحت کی سفارشات ہیں اور اس پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ حجاج کی تعداد اور ایس او پیز بعد میں طے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے حتمی فیصلے میں پاکستان کو اعتماد میں لے گا اور پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور کو آگاہ کرے گا۔

اس سے قبل نورالحق قادری نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ 60 ہزار افراد میں سے 45 ہزار غیرملکی اور 15 ہزار سعودی شہری حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس ساٹھ ہزار افراد کے کوٹے میں سے پاکستان کو بھی کوٹہ ملے گا۔

پیر نورالحق قادری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی حکومت نے یہ اعلان نو صفحات پر مشتمل احتیاطی تدابیر اور شرائط کے ساتھ جاری کیا ہے۔

وزیرِ مذہبی امور کا کہنا تھا کہ جج کے لیے عمر کی حد 18 سے 60 سال ہو گی اور ان افراد کو مطلوبہ جسمانی صحت کا سرٹیفکیٹ لازمی دینا ہو گا۔

پیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ مستند کرونا ویکسین سرٹیفکیٹ اور پی سی آر ٹیسٹ کا منفی آنا لازمی ہو گا۔

وزیرِ مذہبی امور کے بیان سے قبل پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر اشرفی نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ رواں برس حج کی ادائیگی کے لیے کرونا ویکسین لگوانی ہو گی اور مکمل احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہو گا۔

پاکستان کی سعودی عرب کو تجویز

دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ 'ریڈیو پاکستان' کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ چین کی 'سائنو فارم' ویکسین کو بھی منظورہ شدہ ویکسینز کی فہرست میں شامل کر لے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ابتداً لاکھوں افراد کو چین کی 'سائنو فارم' ویکسین کی خوراکیں لگائی گئی ہیں۔ تاہم عالمی ادارہؐ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے منظوری کے باوجود سعودی عرب نے اسے منظور شدہ ویکسینز کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔

سعودی عرب کی جانب سے تسلیم شدہ ویکسینز کی فہرست میں فائزر، ایسٹرازینیکا، موڈرنا اور جانسن اینڈ جانسن کی ویکسینز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے کئی ملکوں سے آنے والے سیاحوں پر لازمی قرنطینہ کی پابندی بھی ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 20 مئی سے ملک میں داخل ہونے والے وہ غیر ملکی شہری جو کرونا ویکسین لگوا چکے ہیں یا حال ہی میں عالمی وبا کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں، انہیں حکومت کے مختص کردہ ہوٹلوں میں قرنطینہ میں رہنے کی ضرورت نہیں۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس کے باعث گزشتہ برس محدود تعداد میں مقامی افراد حج کی سعادت حاصل کر سکے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG