رسائی کے لنکس

logo-print

فوج کے 26 دفاعی تجزیہ کاروں کی فہرست جاری، کئی اہم نام شامل نہیں


پاکستان میں ٹی وی چینلز کو کنٹرول کرنے والے ادارے پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) کے دفاعی تجزیہ کاروں سے متعلق ہدایت نامہ جاری کیے جانے کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے 26 دفاعی تجزیہ کاروں کی ایک فہرست پاکستان کے میڈیا چینلز کو فراہم کر دی ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان تجزیہ کاروں اور سابق افسران کو ان کی خواہش اور رابطہ کرنے پر عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جا رہا ہے۔ اگر مزید ریٹائرڈ افسران بطور دفاعی تجزیہ کار میڈیا پر آنا چاہیں تو وہ آئی ایس پی آر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے جاری کردہ خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ صرف 31 دسمبر 2019 تک قابل استعمال ہے۔

اس سے قبل 6 اپریل کو پیمرا کی طرف سے ایک خط سامنے آیا تھا جس میں جنرل منیجر آپریشنز براڈکاسٹ میڈیا محمد طاہر کے دستخطوں سے جاری مراسلے میں تمام چینلز کو کہا گیا تھا کہ ''متعلقہ حلقوں نے اس امر کا سختی سے مشاہدہ کیا ہے کہ ریٹائرڈ فوجی افسروں کو بار بار ’ڈیفنس تجزیہ کار‘ کے طور پر نیوز/کرنٹ افیئرز کے مختلف چینلوں میں مدعو کیا جانے لگا ہے''۔

مراسلے میں کہا گیا تھا کہ ''یہ دعوت ان کو دفاعی تجزیہ کار کے طور پر دی جانے لگی ہے اور ان کو قومی سلامتی اور متعلقہ معاملات پر رائے ظاہر کرنے کو کہا جاتا ہے''۔

اور یہ کہ ''ٹاک شوز میں ایسے مدعو کئے گئے بہت سے ریٹائرڈ فوجی افسران تازہ ترین دفاعی اور سیکورٹی کے رونما ہونے والے واقعات اور تبدیلیوں کا ادراک نہیں رکھتے، جبکہ بعض اوقات بحث سیکورٹی معاملات سے تبدیل ہو کر سیاست پر شفٹ ہو جاتی ہے۔ ایسے سیاسی مباحثے میں ریٹائرڈ فوجی افسروں کا شامل ہونا ناپسندیدہ ہے''۔

پیمرا نے ہدایات جاری کی تھیں کہ ''اگر کسی حالات حاضرہ کے ٹاک شو میں سابق فوجی افسران کو سیاسی امور پر تبصرہ کرنے کے لئے بلایا جائے تو ان کے نام کے ساتھ دفاعی تجزیہ کار کی بجائے صرف تجزیہ کار لکھیں، جبکہ دفاعی تجزیے کے لئے مدعو کرنے سے قبل آئی ایس پی آر سے کلیئرنس لینا ہو گی''۔

اس خط کے بعد 11 اپریل کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے ایک خط جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس پی آر کو ’ان‘ ریٹائرڈ افسران کو میڈیا پر بطور دفاعی تجزیہ کار آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم، ان کے تبصرے، خیالات اور تجزیے ان کے ذاتی اور آزاد ہوں گے۔ ان کا ادارے سے کوئی تعلق نہ ہو گا۔

اس فہرست میں 7 ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرلز کے نام شامل ہیں، جن میں لیفٹننٹ جنرل معین الدین حیدر، امجد شعیب، خالد مقبول، نعیم خالد لودھی، آصف یاسین ملک، رضا احمد اور اشرف سلیم شامل ہیں، جبکہ دو میجر جنرل اعجاز اعوان اور غلام مصطفیٰ کے نام درج ہیں۔ بریگیڈئیرز میں سعد رسول، فاروق حمید، غضنفر علی، اسلم گھمن، نادر میر، اسد اللہ، آصف ہارون، حارث نواز، سید نذیر اور سیمسن سمون شیروف شامل ہیں۔ پاکستان بحریہ کے صرف ایک افسر کا نام دیا گیا ہے جو ایڈمرل احمد تسنیم ہے جبکہ فضائیہ کے سابق افسران میں ایئرمارشل شاہد لطیف، اکرام بھٹی، مسعود اختر، ریاض الدین شیخ اور ایئر وائس مارشل شہزاد چوہدری اور ایئر کموڈور سجاد حیدر شامل ہیں۔

یہ فہرست ملک کے تمام میڈیا ہاؤسز کو بھجوا دی گئی ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے کہا گیا ہے۔

اس فہرست میں بعض ایسے افسران کے نام شامل نہیں جو بہت سینئر اور بہت زیادہ میڈیا پر نظر آتے ہیں۔ ان میں لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا نام بھی ہے لیکن انہیں تجزیہ کاروں کی اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

اس فہرست میں جن دوسرے اہم تجزیہ کاروں کے نام شامل نہیں ہیں وہ یہ ہیں آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ میجر جنرل اطہر عباس، میجر جنرل راشد قریشی اور بریگیڈیئر محمود شاہ جو ماضی میں اکثر میڈیا کے لیے دستیاب رہے ہیں۔

پاکستان میں میڈیا پر موجودہ حکومت کے دور میں غیراعلانیہ سینسر شپ سمیت نوکریوں پر پابندی اور کئی دوسرے معاملات دیکھنے میں آئے ہیں۔

اس صورت حال پر سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے بھی ہو رہے ہیں۔ سابق ڈی جی ریڈیو مرتضیٰ سولنگی نے یہ فہرست سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور سوال اٹھایا کہ اس میں جنرل طلعت مسعود کا نام کیوں شامل نہیں ہے، جس پر روزنامہ ڈان سے منسلک صحافی اسد ملک نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ” چلیں آئی ایس پی آر نے اپنی میڈیا بریگیڈ تو ظاہر کر دی۔‘‘

اس حوالے سے مختلف چینلز کے ڈائریکٹر نیوز اور حکام سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اُنہوں نے تبصرہ کرنے سے معذرت کر لی۔

کرنل(ریٹائرڈ) انعام الرحیم کی تنقید

میڈیا چینلز پر آنے والے ایک ریٹائرڈ فوجی عہدے دار کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے اس فہرست پر نکتہ چینی کی ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے اور ہم اس حق پر کسی طرح کا قدغن برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر کو اس بات کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کو کسی قسم کی کلیئرنس دے اور ان کی زندگی کو ریگولیٹ کرے۔

انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ منظور کی گئی فہرست میں دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل(ریٹائرڈ) طلعت مسعود کا نام شامل نہیں ہے۔

لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا ردعمل

وائس آف امریکہ نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود سے جب سوال کیا کہ ان کا نام فہرست میں کیوں شامل نہیں تو وہ ہنس پڑے۔ انھوں نے کہا کہ شاید یہ لوگ ڈر گئے ہیں اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پتا نہیں کیوں۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید نذیر کی گفتگو

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید نذیر کا نام فہرست میں شامل ہے۔ بریگیڈیئر سید نذیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے آئی ایس پی آر یا کسی سے درخواست نہیں کی تھی۔ انھوں نے کبھی فوج کے معاملات پر بریفنگ بھی نہیں لی۔ ریٹائرڈ فوجی دو سال کے بعد جب سیاست میں حصہ لے سکتا ہے تو اپنے خیالات کا بھی آزادی سے اظہار کر سکتا ہے۔

تجزیہ کار نجم سیٹھی کا تبصرہ

سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ جن لوگوں کے نام فہرست میں نہیں، ان کے تبصرے پسند نہیں آتے ہوں گے۔ آئی ایس پی آر سابق فوجیوں کو منع کر سکتا ہے لیکن یہ کون ہوتے ہیں میڈیا کو بتانے والے کہ کس سے بات کریں اور کس سے نہیں۔

آئی ایس پی آر کی وضاحت

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سابق فوجیوں کے تبصرے ان کے ذاتی خیالات تصور کیے جائیں گے اور ان کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ تجزیہ کار حیران ہیں کہ پھر فہرست جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG