رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور روس کا مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد پر تبادلہ خیال


اگر دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں پر اتفاق ہوتا ہے تو روس اور پاکستان کی تاریخی میں ایسا پہلی مرتبہ ہو گا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف ان دنوں روس کے دورے پر ہیں جہاں وہ سلامتی سے متعلق ایک کانفرس میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

کانفرنس کے آغاز سے قبل ماسکو میں خواجہ آصف نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی شوئےگُو سے ملاقات میں ممکنہ مشترکہ فوجی مشقوں اور عسکری تربیت سے متعلق اُمور پر تفصیلی بات چیت کی۔

اگر دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں پر اتفاق ہوتا ہے تو روس اور پاکستان کی تاریخی میں ایسا پہلی مرتبہ ہو گا۔

پاکستان کی وزارت دفاع سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق دنوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کی درآمد پر بھی بات چیت کی گئی۔

بیان کے مطابق ماسکو میں ہونے والی عالمی سلامتی سے متعلق کانفرنس میں خواجہ آصف کو شرکت کی دعوت اُن کے روسی ہم منصب نے دی ہے۔

خواجہ آصف اور سرگئی شوئےگُو نے ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یمن میں جاری بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور طاقت کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

اس کانفرنس کے موقع پر پاکستانی وزیرِ دفاع کی اپنے ایرانی ہم منصب سے بھی ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ سرحد کی نگرانی بڑھانے اور دفاعی شعبے میں تعلقات کو وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ حالیہ برسوں میں اسلام آباد اور ماسکو کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور دوطرفہ رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ سال روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئےگو نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے تھے۔

حالیہ مہینوں میں یہ خبریں بھی منظر عام پر آئیں کہ پاکستان روس سے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن اس بارے میں سرکاری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ماسکو کے ساتھ صرف دفاع کے شعبے ہی میں نہیں بلکہ روس کے ساتھ کثیر الجہتی تعاون چاہتا ہے۔

2013ء میں ماسکو میں پاکستان اور روس کے درمیان پہلے اسٹریٹیجک مذاکرات ہوئے تھے، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، معاشی اور دفاعی شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG