رسائی کے لنکس

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور روس کے صدر ولادیمر پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں راہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیتے ہوئے ان میں مزید فروغ کی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔

دونوں راہنماؤں کی ملاقات جمعہ کو قازقستان کے دارالحکومت آستانا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر علیحدہ سے ہوئی تھی۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اور روسی صدر نے اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطحی باہمی روابط اور خوشگوار سیاسی تعلقات نے سیاسی خیرسگالی کو پائیدار اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

روس اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں قابل ذکر بہتری آئی ہے جس میں اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں کے علاوہ مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو بھی فروغ ملا ہے۔

بیان کے مطابق دونوں راہنماؤں نے پاکستان، روس بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادیات، سائنس اور ٹیکنالوجی کے روال سال دسمبر میں ماسکو میں ہونے والے اجلاس کے لیے ٹھوس تجاویز مرتب کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ فریقین نے پاکستان میں روس کے تعاون سے شمال۔جنوب گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

اس منصوبے کے معاہدے پر 2015ء میں دستخط ہوئے تھے اور اس کے تحت کراچی سے لاہور تک گیس پائپ لائن بچھائی جائے گی جس کے لیے روس دو ارب ڈالر سرمایہ کاری کرے گا۔

اس منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل رواں سال کے اواخر تک متوقع ہے۔

نواز شریف اور پوتن کے درمیان بات چیت میں افغانستان اور خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور بیان کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے روس کی طرف سے افغانستان میں قیام امن کے لیے شروع کی گئی کوششوں کو سراہتے ہوئے ہر اس اقدام کی حمایت کا عزم ظاہر کیا جو ان کے بقول افغانستان میں امن و استحکام کا باعث بنے۔

روس کے ساتھ پاکستان کے دفاعی شعبے میں بھی تعاون کو فروغ حاصل ہوا ہے اور گزشتہ سال پہلی مرتبہ دونوں ملکوں کی افواج نے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG