رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی اتحاد میں پاکستان کے کردار کا تعین ہونا باقی ہے: سرتاج


سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ سعودی عرب کی زیر قیادت بننے والے 34 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد سے متعلق پاکستان کو بدستور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی زیر قیادت بننے والے 34 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد سے متعلق پاکستان کو بدستور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

جس کے بعد ہی اس فوجی اتحاد میں پاکستان کے کردار سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان وزرائے دفاع یا وزرائے خارجہ سطح کی ملاقات جلد متوقع ہے، جس سے صورت حال مزید واضح ہو گی۔

سرتاج عزیز نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ اب تک یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اتحاد میں شامل ممالک دہشت گردوں کے خلاف فوجی کوششوں کے علاوہ میڈیا کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مربوط بنانے میں کردار ادا کریں گے۔

جب کہ اس کے علاوہ دہشت گردوں کو مالی معاونت اور حمایت فراہم کرنے والوں کے خلاف جنگ، دہشت گردوں کی تنظیموں اور گروپوں کے بارے میں ایک ڈیٹا بیس کی تیاری اور سیمیناروں و اجلاسوں کے ذریعے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تجاویز کی تیاری بھی اس اتحاد کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ہر ایک ملک اپنے طور پر یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ کس طرح کردار ادا کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دسمبر میں سعودی عرب نے 34 اسلامی ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن اس میں شام، ایران اور عراق شامل نہیں ہیں۔

اگرچہ اتحاد کے قیام کے اعلان کے بعد جنوری میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور اُن کے بعد وزیر دفاع پاکستان کے دورے کر چکے ہیں۔

لیکن تاحال اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد سے متعلق صورت حال اور اس میں پاکستان کا کردار واضح نہیں ہو سکا ہے جس پر بعض قانون ساز بھی تذبذب کا شکار ہیں۔

حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سحر کامران نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہم خود بھی بحیثیت پارلیمنٹرین اس بات کے منتظر ہیں کہ وزارت خارجہ ہمیں تفصیلات سے آگاہ کرے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اس اتحاد میں پاکستان کی کس طرح سے شمولیت ہو گی۔‘‘

سحر کامران نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے لیکن اُن کے بقول حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ پاکستان کو اندرون ملک درپیش چیلنجوں سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔

’’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی پوری توجہ ملک کے اندرونی حالات پر ہونا چاہیئے۔‘‘

واضح رہے کہ چند روز قبل ہی سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ خطے کی تاریخ میں اپنی نوعیت سے بڑی مشترکہ فوجی مشقیں سعودی عرب میں ہونے جا رہی ہیں۔

ان مشقوں میں 20 ممالک شامل ہیں اور پاکستان کی طرف سے بھی ان میں شمولیت کی تصدیق کی گئی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی دفاعی تعلقات رہے ہیں جن میں دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ فوجیں مشقیں معمول کے مطابق ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بقول سعودی عرب میں اس وقت گیارہ سو سے زائد پاکستانی اہلکار تعینات ہیں جن میں فوجی افسران و جوان شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG