رسائی کے لنکس

'اسحٰق ڈار کے مستعفی ہونے کی خبریں درست نہیں'


وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار (فائل فوٹو)

وفاقی حکومت نے وزیرخزانہ کے مستعفی ہونے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسحٰق ڈار ہی ملک کے وزیر خزانہ ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ اسحٰق ڈار اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں اور حکومت ان کی جگہ وزیرخزانہ کے منصب کے لیے مختلف شخصیات کے ناموں پر غور کر رہی ہے۔

تاہم ہفتہ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے معاون خصوصی مصدق ملک نے ان خبروں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اسحٰق ڈار ہی وفاقی وزیرخزانہ اور وہ علالت کے باعث بیرون ملک ہیں۔

قبل ازیں اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا بھی کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار مستعفی نہیں ہوئے ہیں۔

"اسحٰق ڈار صاحب کا بیان بھی آ چکا ہے کہ استعفیٰ نہیں دیا اور انھوں نے بطور وزیرخزانہ پاکستان کو آگے بڑھایا ہے۔۔۔اگر انھوں نے استعفیٰ دیا تو وہ اس کا اعلان کریں گے میرے خیال میں اس میں جو افواہیں اڑائی جا رہی ہیں وہ نامناسب اور بے بنیاد ہیں۔"

اسحٰق ڈار سابق وزیراعظم نواز شریف کے سمدھی بھی ہیں اور گزشتہ سال پاناما پیپرز میں نواز شریف کے بچوں کے نام آف شور کمپنیاں رکھنے والوں کی فہرست میں شامل ہونے کے انکشافات کے بعد سے یہ خاندان حزب مخالف کی شدید تنقید کی زد میں چلا آ رہا ہے۔

وزیرخزانہ پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزامات کے تحت ریفرنس بھی احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے اور رواں ہفتے ہی ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

وہ مسلسل کئی پیشیوں پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور گزشتہ ماہ سے لندن میں مقیم ہیں جہاں بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے عارضہ قلب کا علاج کروا رہے ہیں۔

حزب مخالف اور ناقدین اسحٰق ڈار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول ملک کی اقتصادی حالت ایسی نہیں کہ اس کا انتظام و انصرام کسی ایسی شخصیت کے حوالے رہے جس کے خلاف قانونی کارروائی ہو رہی ہو۔

حکومت اور اسحٰق ڈار ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چیلنجز کے باوجود ملک کی معیشت مستحکم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG