رسائی کے لنکس

بحر ہند میں عسکری و جوہری سرگرمیاں علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ


مشیر خارجہ سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بحر ہند میں جوہری اور عسکری سرگرمیاں خطے کی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

ہفتہ کو ساحلی شہر کراچی میں سمندروں سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بحر ہند میں مال بردار جہازوں کی پرامن نقل و حرکت پاکستان کے اسٹریٹیجک مفاد سے وابستہ ہے اور ان کا ملک سمندر میں تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدام کر رہا ہے۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ سمندر میں محاذ آرائی سے ترقی کا عمل متاثر ہوگا اور پائیدار ترقی کے مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے تمام علاقائی ملکوں کا کردار بہت اہم ہے۔

سرتاج عزیز نے اس موقع پر کسی ملک کا نام تو نہیں لیا لیکن ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اپنے پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات انتہائی حد تک کشیدہ چلے آرہے ہیں اور آئے روز دونوں جانب سے تندوتیز بیانات اور الزامات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔

رواں ہفتے ہی پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کرنے کے لیے ایک خفیہ جوہری شہر تعمیر کر رہا ہے جب کہ اس کے جوہری پروگرام اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربات کو اسلام آباد خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے اور ان پر اسے سخت تشویش ہے۔

لیکن بھارت نے اپنے پڑوسی ملک کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا جوہری پروگرام، جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے "آئی اے ای اے" کے وضع کردہ ضوابط کے عین مطابق ہے۔

مبصرین جنوبی ایشیا کی ان ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدگی کو انتہائی مضر قرار دیتے ہوئے کہتے آ رہے ہیں کہ جتنا جلد ممکن ہو اس تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

لیکن بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر حسن عسکری رضوی کے نزدیک یہ کشیدگی انھیں مستقبل قریب میں کم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی قوتوں کو ہی کوئی راہ نکالنی چاہیے۔

"پاکستان، بھارت کے جوہری پروگرام کو خطرہ کہتا ہے اور بھارت پاکستان کے جوہری پروگرام کو خطرہ قرار دیتا ہے لہذا یہ معاملہ تو جب تک دونوں ملکوں کے تعلقات درست نہیں ہوں گے اسی قسم کی بیان بازی چلتی رہے گی۔ میرا خیال ہے کہ بین الاقوامی قوتوں کو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ بھارت اور پاکستان میں کوئی مذاکراتی عمل شروع ہو تاکہ تناؤ اگر ختم نہیں ہو سکتا تو کم تو ہو جائے۔"

گزشتہ سال نومبر میں پاکستان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنی سمندری حدود کے قریب بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز کا سراغ لگایا جس کا راستہ روکے جانے پر وہ آبدوز واپس جانے پر مجبور ہو گئی۔

تاہم بھارت نے اس الزام کو صریحاً بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG