رسائی کے لنکس

logo-print

سزائے موت پر عمل درآمد ’موخر رکھنے کا فیصلہ‘: رپورٹ


مسلم لیگ ن کی حکومت کے عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک میں جرائم پیشہ عناصر اور شدت پسندوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سزائے موت پر عمل درآمد ضروری ہے۔

پاکستان میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد نا کرنے کے فیصلے کو فی الوقت برقرار رکھا جا رہا ہے۔

خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جمعرات کو وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید خان نے بتایا کہ سابقہ حکومت کی طرح سزائے موت پر عمل درآمد نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کے بقول حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور اس کا پاس کیا جائے گا۔

2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے پانچ سالہ دور اقتدار میں غیر اعلانیہ طور پر سزائے موت پر عمل درآمد کو موخر کیے رکھا تھا۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

حکومت کے اس فیصلے کے بعد طالبان شدت پسندوں کی طرف سے یہ دھمکی بھی سامنے آئی تھی کہ پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید ان کے ساتھیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تو اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی ملکی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی حکومت سے موت کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کرتی آئی ہیں۔

مسلم لیگ ن کی حکومت کے عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک میں جرائم پیشہ عناصر اور شدت پسندوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سزائے موت پر عمل درآمد ضروری ہے۔

پاکستان میں سزائے موت کے لگ بھگ 8000 قیدی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ ملک میں آخری بار 2012 میں ایک قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG