رسائی کے لنکس

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایرانی قونصل جنرل کے سیکرٹری نے کہا ہے کہ انھیں اغوا کرنے کی مبینہ کوشش کی گئی اور اس بارے میں انھوں نے نامعلوم افراد کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کروایا ہے۔

مبینہ اغوا کا یہ واقعہ لاہور کی مصروف شاہراہ کینال روڈ پر واقع گارڈن ٹاون انڈر پاس میں 17 اپریل کو پیش آیا۔

امید چودھری کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست کے کہا گیا کہ وہ اپنے دفتری امور نمٹا کر ایرانی قونصل خانے سے اوبر ٹیکسی سروس کی گاڑی کے ذریعے اپنے گھر جا رہے تھے کہ ایک کالے رنگ کی پراڈو پر اور ایک دوسری کار میں سوار نامعلوم مسلح افراد نے انھیں اسلحے کے زور پر اپنے ساتھ زبردستی گاڑی میں بٹھا لیا۔ امید چوہدری کے مطابق اغوا کاروں نے ان کی آںکھوں پر پٹی باندھ دی اور راستے میں ان پر تشدد بھی کرتے رہے۔

اس دوران ملزمان نے امید چودھری سے موبائل فون اور پچپن ہزار روپے چھین لیے اور ضلع شیخوپورہ کے علاقے خانپور نہر کے قریب انھیں گاڑی سے پھینک کر فرار ہو گئے۔

امید چودھری نے پولیس کو بتایا کہ اغوا کاروں نے انہیں اس واقعے کا کسی سے ذکر نہ کرنے کی بھی تنبیہ کی۔

پولیس نے امید چودھری کی درخواست پر اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایس پی ماڈل ٹاون فیصل شہزاد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ملزمان امید چودھری سے ان کی ملازمت اور ایرانی قونصلیٹ کے بارے میں تفصیلات لیتے رہے۔ فیصل شہزاد نے بتایا کہ واقعہ کا مقدمہ گارڈن ٹاون پولیس اسٹیشن میں درج کر کے اس سے متعلق مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

امید چودھری کی موبائل فون کالز ریکارڈ اور دیگر شواہد کی بناء پر تفتیش آگے بڑھائی جارہی ہیں۔

ایرانی قونصل خانہ لاہور میں کینال روڈ پر واقع ہے۔ قونصل خانے نے اس واقعہ پر کوئی بھی موقف دینے سے انکار کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG