رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: ’یوم آزادی‘ پر بڑے حملے کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ


فوج کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں کالعدم تحریک طالبان کی سوات شاخ کا کراچی میں نائب امیر بخت زمان بھی شامل ہے۔

پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 14 اگست کو ’یوم آزادی‘ کے موقع پر دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے، ایک اہم شدت پسند کمانڈر سمیت گروہ میں شامل دیگر افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

فوج شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے بیان میں بتایا گیا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں کالعدم تحریک طالبان کی سوات شاخ کا کراچی میں نائب امیر بخت زمان بھی شامل ہے۔

حکام کے بقول انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس گروہ کی نگرانی کی جا رہی تھی اور یہ لوگ بارود سے بھری گاڑی اور موٹر سائیکل تیار کر رہے تھے جو یوم آزادی پر تخریب کاری کے لیے استعمال کی جانی تھیں۔

تفتیش کے دوران حراست میں لیے گئے مشتبہ دہشت گردوں نے اعتراف کیا کہ ان گاڑیوں کا انتظام کراچی سے ہی میں کیا گیا تھا اور وہ "افغانستان سے خودکش بمباروں" کی آمد کا انتظار کر رہے تھے جن کا انتظام کرنے کے لیے کراچی میں ’ٹی ٹی پی‘ سوات کے سربراہ افغانستان گئے ہوئے ہیں۔

فوج کے مطابق ان افراد کی حیدرآباد اور کراچی میں نگرانی کی جاتی رہی اور حکام نے انھیں حراست میں لینے کے علاوہ بارود سے بھری ہائی روف گاڑی اور موٹر سائیکل بھی قبضے میں لے لیا ہے۔

پاکستان نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جہاں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے وہیں ملک بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاونین کے خلاف بھی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

ایسی کارروائیوں میں سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ درجنوں شدت پسند مارے بھی جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG